Jasarat News:
2026-07-24@06:08:21 GMT

پاکستانی جرنیلوں اور سول حکمرانوں کا تصورِ قوم

اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260208-03-5

سندھ ہائی کورٹ نے طلبہ یونین کی بحالی اور تعلیمی اداروں میں یونین کے انتخابات کے انعقاد سے متعلق آئینی درخواست کو جرمانے کے ساتھ مسترد کردیا۔ عدالت نے درخواست گزار کو ایک ہفتے کے اندر دس ہزار روپے جرمانہ سندھ ہائی کورٹ کے کلینک میں جمع کرانے کا حکم بھی دے دیا۔ دو رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس عدنان الکریم میمن نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ تعلیم پہلے ہی تباہ حال ہے آپ اسے مزید کیوں برباد کرنا چاہتے ہیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ طلبہ یونین کی بحالی کا مقصد اور فائدہ کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل عثمان فاروق نے موقف اختیار کیا کہ طلبہ یونین کی بحالی کے لیے باقاعدہ ایکٹ موجود ہے اس پر جسٹس عدنان الکریم نے ریمارکس دیے کہ یہ ایکٹ ہی غلط ہے اور اسے بھی معطل کیا جاسکتا ہے۔ (روزنامہ دنیا کراچی، 29 جنوری 2026ء)

ہم طلبہ یونین کی بحالی کے خلاف فیصلہ دینے والے ججوں کو نہیں جانتے لیکن ان کے بارے میں دو باتیں طے ہیں۔ ایک یہ کہ انہوں نے غلامی اور ناانصافی میں پی ایچ ڈی کیا ہوا ہے۔ دوسری بات یہ کہ دونوں جج صاحبان ہمارے جرنیلوں اور ان کے پالتو سیاست دانوں کے پیدا کردہ معاشرے کا حاصل ہیں۔

تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ حکمران اور رہنما جیسے خود ہوتے ہیں وہ ویسا ہی معاشرہ اور ویسے ہی انسان پیدا کرتے ہیں۔ رسول اکرمؐ انسانی تاریخ کے سب سے بڑے انسان تھے چنانچہ انہوں نے سیدنا ابوبکرؓ، سیدنا عمرؓ، سیدنا عثمانؓ اور سیدنا علیؓ جیسے انسان اور حکمران پیدا کیے ہیں۔ صحابہ کرام خود عظیم انسان تھے اس لیے انہوں نے تابعین جیسے لوگوں کو جنم دیا۔ تابعین خود بڑے لوگ تھے اس لیے انہوں نے تبع تابعین جیسے انسان خلق کیے۔ ملوکیت بہت بدنام ہے مگر عہد ملوکیت میں ہم نے امام غزالی، مولانا رومی، امام رازی، ابن عربی، امام ابوحنیفہ، امام شافعی اور امام مالک جیسے لوگ پیدا کیے۔ برصغیر کے مسلمانوں نے عہد غلامی میں شاہ ولی اللہ، مولانا اشرف علی تھانوی، امام رضا خان بریلوی، اقبال، مولانا مودودی، مولانا محمد علی جوہر، مولانا حسرت موہانی، مولانا ظفر علی خان اور قائداعظم جیسے لوگ پیدا کیے۔ اقبال برصغیر میں ایک اسلامی ریاست کا تصور پیش کرنے والے پہلے انسان نہیں تھے ان سے بہت پہلے عبدالحلیم شرر اور خیری برادران برصغیر میں ایک الگ اسلامی ریاست کا تصور پیش کرچکے تھے مگر بہرحال عوامی قبولیت اقبال ہی کے تصور کو حاصل ہوئی لیکن اقبال کیسا معاشرہ اور کیسی ریاست چاہتے تھے اس کا اندازہ اقبال کی شاعری سے بخوبی ہوجاتا ہے۔ اقبال کے نزدیک آزادی اور آزاد انسان ایک بڑی نعمت تھا اور غلامی کو وہ ایک عذاب اور انسان کی توہین سمجھتے تھے۔ چنانچہ اقبال نے آزادی کا ترانا گاتے ہوئے اور غلامی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے۔

بندگی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے اک جوئے کم آب
اور آزادی میں بحر بیکراں ہے زندگی
٭٭
غلامی کیا ہے ذوقِ حُسن و زیبائی سے محرومی
جیسے زیبا کہیں آزاد بندے ہے وہی زیبا
٭٭
بھروسا کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر
کہ دنیا میں فقط مردانِ حُر کی آنکھ ہے بینا
٭٭
آزاد کا اندیشہ حقیقت سے منّور
محکوم کا اندیشہ گرفتارِ خرافات
محکوم کو پیروں کی کرامات کا سودا
ہے بندئہ آزاد خود اک زندہ کرامات
محکوم کے حق میں ہے یہی تربیت اچھی
موسیقی و صورت گری و علمِ نباتات
٭٭
محکوم کا دل مردہ و افسردہ و نومید
آزاد کا دل زندہ و پر سوز و طرب ناک
٭٭
آزاد کی اک آن ہے محکوم کا اک سال
کس درجہ گراں سیر ہے محکوم کے اوقات

پاکستان کو اگر اقبال کی فکر کے مطابق بڑے حکمران میسر آتے اور پاکستان اگر جرنیلوں اور ان کے پالتو سیاست دانوں کے چنگل میں نہ پھنستا تو پاکستان کا معاشرہ اقبال کے اس مرد و مومن کا معاشرہ ہوتا جس کے بارے میں اقبال نے کہا ہے۔

تقدیر کے پابند جمادات و نباتات
مومن فقط احکامِ الٰہی کا ہے پابند
٭٭
کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گُم ہے
مومن کی یہ پہچان کہ گُم اس میں ہے آفاق
٭٭
کافر ہے تو شمشیر پر کرتا ہے بھروسا
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
٭٭
ہر لحظہ ہے مومن کی نئی آن نئی شان
کردار میں گفتار میں اللہ کی برہان
جس سے جگرِ لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم
دریائوں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفان
یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن

بدقسمتی سے پاکستان پر مسلط جرنیلوں اور ان کے پیدا کردہ سیاست دانوں کا تصور انسان چار سطحوں پر بیان کیا جاسکتا ہے۔ پہلی سطح پر انسان جرنیلوں اور ان کے پیدا کردہ سیاست دانوں کا ’’غلام‘‘ ہے۔ دوسری سطح پر وہ ایک ’’بونا‘‘ ہے۔ تیسری سطح پر وہ ایک ’’بالشتیہ‘‘ ہے اور چوتھی سطح پر وہ ایک ’’کیڑا مکوڑا‘‘ ہے۔ ایسا نہ ہوتا تو پاکستان کی تاریخ کچھ اور ہوتی۔

دیکھا جائے تو پاکستان کی دو بنیادیں تھیں اسلام اور جمہوری جدوجہد لیکن پاکستان کے جرنیلوں نے دونوں تصورات کی دھجیاں اُڑا دیں۔ جنرل ایوب نے اقتدار پر قبضہ کیا تو انہوں نے اسلام کو پسِ پشت ڈال کر ملک پر سیکولرازم مسلط کردیا۔ انہوں نے 1954ء کے آئین کو معطل کردیا۔ انہوں نے صحافت کی تمام آزادیاں چھین لیں اور صحافیوں کی زبانوں پر تالے ڈال دیے گئے۔ جنرل ایوب نے عدلیہ کو بھی نہ بخشا اور 11 سال تک عدلیہ کو یہ جرأت نہ ہوسکی کہ وہ جنرل ایوب کے مارشل لا کو چیلنج کرسکتی۔ چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے انسانوں کا معاشرہ غلاموں، بونوں، بالشتیوں اور حشرات الارض کا معاشرہ بن گیا۔ بالشتیوں اور حشرات الارض کا معاشرہ ہونے کا اندازہ اس بات سے کیجیے کہ 1971ء میں جب مشرقی پاکستان میں فوج کے خلاف جذبات کا طوفان آیا ہوا تھا پاکستان کے معروف صحافی الطاف حسن قریشی اپنے اداریے میں لکھ رہے تھے کہ مشرقی پاکستان میں فوج کے لیے محبت کا زمزمہ بہہ رہا ہے۔ فوج بنگالیوں کو طاقت کے زور پر کچل رہی تھی اور روزنامہ جسارت میں عبدالکریم عابد کے سوا کوئی پاکستانی صحافی بنگالیوں پر فوج کے ظلم کی مذمت نہیں کررہا تھا۔ چنانچہ جب سقوط ڈھاکا ہوا تو پورا مغربی پاکستان حیران رہ گیا۔ اس لیے کہ پاکستان کا پریس قوم کو بتارہا تھا کہ پاکستانی فوج پوری بہادری سے ہندوستان کا مقابلہ کررہی ہے لیکن ہماری فوج کی بہادری کا افسانہ اس وقت عذاب جان بن گیا جب ہمارے 90 ہزار فوجیوں نے بھارت کے سامنے ہتھیار ڈالے۔ ہمارے فوجیوں کا بھارت کے آگے ہتھیار ڈالنے کا عمل بھی اس امر کا عکاس تھا کہ ہمارا معاشرہ اقبال کے مومنوں اور شاہینوں کا نہیں بونوں، بالشتیوں اور حشرات الارض کا معاشرہ تھا۔ ہمارے فوجیوں میں اگر غیرت اور حمیت ہوتی تو وہ لڑتے لڑتے مرجاتے مگر بھارت کے آگے 90 ہزار کی تعداد میں ہتھیار نہ ڈالتے۔ یہ بات بھی تاریخ کے ریکارڈ کا حصہ ہے کہ جنرل ایوب 11 سال ملک پر مسلط رہے مگر غلاموں، بونوں، بالشتیوں اور حشرات الارض کا معاشرہ ان کے خلاف تحریک چلا کر انہیں اقتدار چھوڑنے پر مجبور نہ کرسکا۔

جنرل ایوب گئے تو اس وقت جب جنرل یحییٰ سمیت فوج کے ایک درجن اعلیٰ فوجی اہلکاروں نے جنرل ایوب کے خلاف بغاوت کی۔ جنرل ضیا الحق دس سال ملک پر مسلط رہے اور بونوں اور بالشتیوں کا معاشرہ ان کا کچھ نہ بگاڑ سکا۔ ان دس برسوں میں کسی اخبار نے جنرل ضیا الحق کے خلاف سچ بولنے کی جرأت نہیں کی۔

الطاف حسین کی سول آمریت کی تاریخ بھی ہمارے سامنے ہے۔ الطاف حسین تین دہائیوں تک کراچی پر مسلط رہے اور اس عرصے میں ان کے خلاف کسی اخبار میں ایک لفظ بھی شائع نہ ہوسکا۔ یہ صرف جسارت تھا جو ان کے خلاف ڈٹ کر کھڑا رہا۔ ارشاد احمد حقانی روزنامہ جنگ کے مقبول کالم نگار تھے۔ ہماری اور ہمارے دوست یحییٰ بن زکریا صدیقی کی لاہور میں ان سے ملاقات ہوئی تو یحییٰ بھائی نے ارشاد احمد حقانی سے کہا کہ آپ سب کے خلاف لکھتے ہیں مگر الطاف حسین کے خلاف کچھ نہیں لکھتے۔ اس کے جواب میں ارشاد احمد حقانی نے کہا کہ میں نے سنا ہے الطاف حسین اختلاف کرنے والوں کو مروا دیتا ہے۔

جنرل پرویز مشرف 9 سال تک ملک پر قابض رہے۔ بونوں اور بالشتیوں کا معاشرہ ان کا بھی کچھ نہ بگاڑ سکا۔ ان کے خلاف وکلا کی تحریک چلی تو اس لیے کہ جنرل کیانی اس تحریک کی پشت پر موجود تھے۔

اب ہم جنرل عاصم منیر کے عہد میں زندہ ہیں۔ اس عہد میں 2024ء کا پورا الیکشن اغوا کرلیا گیا، عمران خان سے دو تہائی اکثریت چھین لی گئی۔ کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی کی کامیابی کو ناکامی میں بدل کر فوجی اسٹیبلشمنٹ نے کراچی پر بدعنوان اور متعصب پیپلز پارٹی کے مرتضیٰ وہاب کو مسلط کردیا لیکن جنرل عاصم منیر کی آمریت اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف معاشرہ کچھ نہیں کرپا رہا۔ عمران خان بلاشبہ مقبول ہیں مگر وہ دو سال سے جیل میں پڑے ہیں اور کوئی بڑا احتجاج کرنے میں ناکام ہیں۔ اس لیے کہ جرنیلوں اور ان کے پالتو سیاست دانوں نے معاشرے کو بونوں، بالشتیوں اور حشرات الارض کا معاشرہ بنا کر معاشرے سے اس کی قوت مزاحمت چھین لی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ملک کی ایک اعلیٰ عدالت طلبہ کے جمہوری اور آئینی حق کو بھی تسلیم کرنے پر تیار نہیں۔ یہاں تک کہ وہ یونین کے انتخابات کے لیے درخواست دینے والے وکیل پر 10 ہزار کا جرمانہ عائد کررہی ہے۔ جرنیلوں اور ان کے پالتو سیاست دانوں کا معاشرہ غلاموں، بونوں، بالشتیوں اور حشرات الارض کا معاشرہ نہ بننے تو اور کیا بنے؟

شاہنواز فاروقی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: طلبہ یونین کی بحالی الطاف حسین ان کے خلاف جنرل ایوب انہوں نے کا تصور وہ ایک ملک پر اس لیے کچھ نہ فوج کے ہے اور

پڑھیں:

جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا

جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

جد ہ (خالد نواز چیمہ )قونصل خانہ جنرل پاکستان، جدہ میں ڈپٹی قونصل جنرل کے عہدے پر اہم انتظامی تبدیلی عمل میں آ گئی ہے۔ وزارتِ خارجہ پاکستان کی جانب سے محترمہ فرینہ ارشد کو ڈپٹی قونصل جنرل، جدہ تعینات کیا گیا ہے، جنہوں نے اپنی ذمہ داریاں باقاعدہ طور پر سنبھال لی ہیں۔

محترمہ فرینہ ارشد ایک سینئر اور تجربہ کار کیریئر سفارت کار ہیں، جنہیں سفارتی خدمات کا پندرہ سال سے زائد کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کے دوران وہ مختلف اہم سفارتی اور انتظامی ذمہ داریوں پر خدمات انجام دے چکی ہیں اور اپنی صلاحیتوں کے باعث وزارتِ خارجہ کے ممتاز افسران میں شمار ہوتی ہیں۔

قونصل خانہ جنرل پاکستان، جدہ کی جانب سے محترمہ فرینہ ارشد کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان کے لیے نیک تمناں کا اظہار کیا گیا ہے۔ قونصل خانے نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ مہارت، تجربے اور قائدانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستانی کمیونٹی کو فراہم کی جانے والی قونصلر خدمات کو مزید مثر، تیز رفتار اور عوام دوست بنانے کے ساتھ ساتھ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کریں گی۔

دوسری جانب، سابق ڈپٹی قونصل جنرل محترمہ سعدیہ وقار النسا کو فوری طور پر پاکستان واپس رپورٹ کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ انہوں نے اپنے دورِ تعیناتی کے دوران پاکستانی کمیونٹی کی خدمت، قونصلر امور اور عوامی مسائل کے حل کے لیے قابلِ قدر خدمات انجام دیں، جنہیں کمیونٹی کی جانب سے سراہا گیا۔

واضح رہے کہ قونصل خانہ جنرل پاکستان، جدہ میں ڈپٹی قونصل جنرل کا منصب انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس عہدے پر تعینات افسر سعودی عرب کے مغربی ریجن میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کو قونصلر خدمات کی فراہمی، کمیونٹی ویلفیئر، عوامی رابطوں اور پاکستان و سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ اگلی خبرامریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی