ملازمت کی آڑ میں خواتین کو جسم فروشی کیلیے یو اے ای لے جانے کی کوشش ناکام، گروہ کے سہولت کار گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے ملازمت کی آڑ میں جنسی استحصال کیلیے متحدہ عرب امارات جانے والی دو خواتین سمیت 3 مسافروں کو آف لوڈ کیا جن کی نشاندہی پر نیٹ ورک کے سہولت کاروں کو گرفتار کرلیا گیا۔
دبئی میں انسانی اسمگلنگ اورجنسی استحصال میں ملوث نیٹ ورک کے سہولت کاروں عاصم اورنعمان نامی ملزمان کو بھی گرفتارکرلیا گیا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق امیگریشن عملے نے کراچی ائیرپورٹ پرکارروائی کےدوران انسانی اسمگلنگ اور جنسی استحصال میں ملوث منظم نیٹ ورک کو پکڑ لیا۔
کارروائی کے دوران متحدہ عرب امارات جانے والی 2 خواتین سمیت 3 مسافروں کوآف لوڈ کیاگیا،جن کی شناخت سمیرا، نوشین اسحاق اور جمشید اقبال کے ناموں سے ہوئی۔
مسافروں کی نشاندہی پر انسانی اسمگلنگ اور جنسی استحصال کے نیٹ ورک کے سہولت کاروں عاصم اورنعمان کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق خاتون مسافر سمیرا وزٹ ویزے کی آڑ میں مساج سینٹرز اور جنسی استحصال میں ملوث گروہ کے لیے ملازمت کرنے جا رہی تھی، خاتون مسافر کو شمیلا نامی ملزمہ نے فیس بک اور واٹس ایپ کے ذریعے بھرتی کیا اور ماہانہ 1.
خاتون کو یو اے ای بھجوانے میں شمیلا کے دیگر ساتھی نوشین اشفاق اور اس کے شوہر جمشید اقبال شامل ہیں۔
نوشین اقبال اور جمشید اقبال اس سے قبل بھی متعدد خواتین کو یو اے ای بھجوانے میں سہولت کاری کر چکے ہیں جبکہ شمیلا کے کراچی کے علاقے اعظم ٹاؤن میں واقع فلیٹ سے متعدد شواہد اور موبائل فون برآمد کیے گئے جن میں واٹس ایپ چیٹس، تصاویر اور مالی لین دین کے ریکارڈ موجود ہیں۔
ایف آئی اے کے مطابق مسافروں کو عاصم اور نعمان نامی ملزمان نے سفری انتظامات اور ٹرانسپورٹ میں سہولت کاری فراہم کی۔ مذکورہ کیس کےحوالےسےایف آئی اے انسدادانسانی اسمگلنگ سرکل میں تحقیقات جاری ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جنسی استحصال کے سہولت نیٹ ورک
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔