ترلائی کلاں خودکش حملہ، افغانی داعش ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
فوٹو: اے پی پی
وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ترلائی کلاں خودکش حملے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، افغانی داعش ماسٹر مائنڈ سمیت چار سہولت کار گرفتار کرلیے گئے۔
تکنیکی، انسانی انٹیلی جنس بنیاد پر خیبر پختونخوا کے اضلاع پشاور اور نوشہرہ میں مربوط کارروائیاں کی گئیں، کارروائیوں کے نتیجے میں خودکش حملے کے چار سہولت کاروں سمیت افغان داعش ماسٹر مائنڈ بھی گرفتار کیا گیا۔
افغانستان میں اسلحہ چلانے اور خودکش حملے کی تربیت حاصل کی تھی، پشاور اور نوشہرہ میں خودکش حملہ آور کے نیٹ ورک اور سہولت کاروں کی تلاش شروع کردی گئی۔
وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ شواہد سے واضح ہے حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور ذہن سازی داعش نے افغانستان میں کی، افغان طالبان کی سرپرستی میں دہشت گردی کا گٹھ جوڑ علاقائی امن کے لیے بدستور سنگین خطرہ ہے۔
وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران قانون نافذ کرنے والے ادارے کا ایک اہلکار شہید اور 4 زخمی ہوئے، انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں جاری ہیں، دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز کا عزم غیر متزلزل ہے۔
طارق جمیل نے کہا کہ بے گناہ جانوں کا ضیاع انسانیت کے خلاف جرم ہے۔
خیال رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مسجد اور امام بارگاہ کے اندر گزشتہ روز ہونے والے خودکش دھماکے کے نتیجے میں 33 افراد شہید اور 170 سے زائد زخمی ہو گئے۔
نماز جمعہ کے دوران مسجد میں داخلے سے روکنے پر حملہ آور نے خود کو گیٹ پر اڑا لیا، دہشت گرد پر رضاکاروں نے فائرنگ کی، گولی ران میں لگی وہ گر پڑا، ساتھی نے فائر کھولا تو دہشت گرد پھر کھڑا ہوا اور گیٹ سے مسجد کے صحن میں گھس گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق پہلی رکعت کے سجدے میں جاتے ہی دھماکا ہوا، ایک حملہ آور فرار ہوگیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کے خلاف
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔