اسلام آباد امام بارگاہ میں دہشتگردانہ حملہ انسانیت کے خلاف کھلی بربریت ہے، شیعہ فیڈریشن جموں
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
عاشق حسین خان نے کہا کہ دہائیوں سے شیعہ مساجد، امام بارگاہیں، جلوس، علماء اور عام شہری دہشتگردوں کے نشانے پر ہیں، مگر اس کے باوجود مؤثر اور فیصلہ کن اقدامات دکھائی نہیں دیتے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلام آباد کے علاقے ترلائی کلاں میں واقع خدیجۃ الکبریٰ امام بارگاہ میں جمعہ کی نماز کے دوران ہونے والے دہشتگردانہ خودکش حملے میں متعدد نمازی شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ سجدہ ریز معصوم انسانوں کو نشانہ بنانے کے اس اندوہناک واقعے نے ہر باشعور انسان کو صدمے اور غم میں مبتلا کر دیا ہے۔ ادھر شیعہ فیڈریشن صوبہ جموں نے اس سفاکانہ حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ محض ایک دہشتگردی نہیں بلکہ ریاستی ناکامی، فرقہ وارانہ درندگی اور انسانیت کے خلاف کھلی بربریت کی علامت ہے۔ شیعہ فیڈریشن کے صدر عاشق حسین خان نے کہا کہ دہائیوں سے شیعہ مساجد، امام بارگاہیں، جلوس، علماء اور عام شہری دہشتگردوں کے نشانے پر ہیں، مگر اس کے باوجود مؤثر اور فیصلہ کن اقدامات دکھائی نہیں دیتے۔
انہوں نے کہا کہ ہر سانحے کے بعد رسمی مذمتی بیانات اور وقتی دعوے سامنے آتے ہیں، لیکن زمینی سطح پر حالات میں کوئی نمایاں تبدیلی نظر نہیں آتی۔ یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ کب تک شیعہ مسلمانوں کی لاشوں پر محض بیانات دئے جاتے رہیں گے اور کب عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ دوسروں پر اپنی ناکامی کا بوجھ ڈالنے کے بجائے اس حملے میں ملوث دہشتگردوں، ان کے سہولت کاروں اور سرپرستوں کو فوری طور پر قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور شیعہ مسلمانوں سمیت تمام مکاتبِ فکر کے ماننے والوں کے تحفظ کے لئے ٹھوس، واضح اور دیرپا حکمت عملی اپنائی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔