مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد دھماکا ایجنسیوں کی ناکامی قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
اسلام آباد:
جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد دھماکہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایجنسیوں کی ناکامی قرار دے دیا۔
اپنے بیان میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اسلام آباد دھماکہ افسوسناک اور قابل مذمت ہے، حملہ آور انسانیت کے دشمن ہیں جو کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا گو ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے بعد اب اسلام آباد میں بھی مسلسل دہشت گرد کارروائیاں ہورہی ہیں، ملک کا کوئی حصہ دہشت گردوں سے محفوظ نہیں، ان بدترین حالات میں اداروں کا اپنی کارکردگی پر فخر سوالیہ نشان ہے۔
سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ فرقہ وارانہ فسادات کرنے والے قومی و بین الاقوامی عناصر کی مجرمانہ ذہنیت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، سانحوں کے بعد حکمرانوں کے دوروں اور مذمتی بیانات پر انحصار کرکے قوم کو مطمئن نہیں کیا جاسکتا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ادارے سیاسی مداخلت سے فارغ ہوں تو امن وامان اور عوام کی جان ومال کے تحفظ پر توجہ دیں۔ درجنوں انٹیلیجنس ایجنسیوں کے ہوتے اسلام آباد میں محترم دن کو خون آلود کردیا گیا، یہ حملہ ایجنسیوں کی ناکامی ہے۔
سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ ریاستی ادارے کب عوام کی مایوسی کا ازالہ کریں گے، کب عوامی زخموں کا مرہم بنیں گے۔ کب عوام کے مستقبل اور آنے والی نسلوں کی حفاظت کا نظام بنائیں گے؟، متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کرتے ہیں اور ان کے دکھ درد میں شریک ہیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد نے کہا کہ
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔