شاہد آفریدی کی اسلام آباد خودکش دھماکے کی شدید مذمت، دہشتگردی کیخلاف عملی اقدامات کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد خان آفریدی نے اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں ہونے والے خودکش دھماکے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا بدترین بربریت ہے جس پر خاموشی مزید نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں شاہد آفریدی نے کہا کہ بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں کے بعد اب اسلام آباد میں بھی دہشتگردوں نے اپنی وحشیانہ کارروائی سے نہتے اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشتگردی کی لہر مسلسل شدت اختیار کر رہی ہے۔
شاہد آفریدی نے سوال اٹھایا کہ آخر کب تک قوم صرف مذمتی بیانات اور ٹوئٹس پر اکتفا کرتی رہے گی، اور یہ سلسلہ مزید کب تک برداشت کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ عملی اور فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں تاکہ اس ناسور کا مستقل خاتمہ ممکن ہو سکے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ بیرونی مداخلت کے جن شواہد کا بارہا ذکر کیا جاتا ہے انہیں قوم کے سامنے لایا جائے، عوام کو اعتماد میں لیا جائے اور دہشتگردی کے خاتمے کیلئے جو بھی سخت فیصلے ضروری ہوں وہ فوری طور پر کیے جائیں۔
واضح رہے کہ اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ و مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں ہونے والے خودکش دھماکے کے نتیجے میں 32 افراد شہید جبکہ 150 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں، جس کے بعد ملک بھر میں شدید غم و غصے کی فضا پائی جاتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسلام آباد
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔