سانحہ اسلام آباد کے بعد لاہور میں سیکیورٹی ہائی الرٹ
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
—فائل فوٹو
سانحہ اسلام آباد کے بعد لاہور میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی۔
اس حوالے سے سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ کا کہنا ہے کہ امام بارگاہوں، مساجد اور دیگر مذہبی مقامات کی سیکیورٹی کے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پبلک مقامات اور مارکیٹوں میں سیکیورٹی کے بہترین انتظامات کیے جائیں، شہر کے داخلی اور خارجی راستوں کی نگرانی مزید سخت کی جائے۔
اسلام آباد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں.
سی سی پی او لاہور کا کہنا ہے کہ سپروائزری افسران فیلڈ میں متحرک رہیں، متواتر مانیٹرنگ جاری رکھیں، پولیس ٹیمیں ہاٹ اسپاٹ ایریاز کی خصوصی نگرانی کریں۔
بلال صدیق کمیانہ نے کہا کہ سیف سٹی اتھارٹی کے کیمرا نیٹ ورک کے ذریعے شاہراہوں اور اہم مقامات کی نگرانی جاری رکھی جائے، عوام کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع 15 یا قرینی تھانے میں دیں۔
واضح رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مسجد و امام بارگاہ کے اندر خودکش دھماکے کے نتیجے میں 31 افراد شہید اور 170 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔