اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اسلام آباد میں خودکش حملہ کے بعد دنیا بھر سے ہمدردی اور یکجہتی کے اظہار کے لیے موصول ہونے والے پیغامات پر دوست ممالک اور عالمی رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا ہے۔
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ایکس پر ایک بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ اس گھناؤنے جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور ان کے مذموم عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ اسلام آباد کی امام بارگاہ میں خودکش حملے میں 32 افراد شہید اور 162 افراد زخمی ہوئے، میتیں ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہیں، زخمیوں کا پمز اور پولی کلینک میں علاج جاری ہے۔

وزیر اعظم نے اپنے پیغام میں کہا کہ اسلام آباد میں دل دہلا دینے والے خودکش حملے کے بعد دنیا بھر سے ہمیں ہمدردی اور یکجہتی کے جو پیغامات موصول ہوئے ہیں، ہم اُن کے لیے شکر گزار ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ پاکستان کی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کوششوں میں ہمارے دوستوں اور شراکت داروں کی حمایت اور تعاون ہمیشہ سے نہایت اہم رہا ہے، اس نازک گھڑی میں بہادر پاکستانی قوم متحد رہے اور دہشت گردی کو شکست دینے کے اپنے عزم پر پہلے کی طرح مضبوطی سے قائم رہے۔

دوسری جانب خودکش دھماکے کے بعد علاقے کی فضا اب بھی سوگوار ہے، ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکے میں چار سے چھ کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا جبکہ بڑی تعداد میں بال بیئرنگ بھی استعمال کی گئی۔

خودکش حملہ آور نے پہلے پستول سے چھ فائر کیے، مسجد کے مرکزی ہال میں جاکر خود کو اڑالیا، خودکش بمبار افغانستان سے تربیت یافتہ نکلا، ٹریول ہسٹری موجود ہے، حملہ آور کا شناختی کارڈ جائے وقوعہ سے مل گیا۔

مبینہ خودکش حملہ آورکی شناخت یاسر ولد بہادر خان کے نام سے ہوئی ہے، حملہ آور محلہ قاضیاں پشاور کا رہائشی تھا، پشاور سے خودکش بمبار کے چار رشتے داروں کو بھی گرفتار کرلیا گیا، ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ مکمل کرلی گئی ہے، دھماکے میں شہید افراد کی اجتماعی نماز جنازہ گیارہ بجے ادا کی جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران