عالمی رہنماؤں کے پیغامات کا شکریہ ، دہشت گردوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے: وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اسلام آباد میں خودکش حملہ کے بعد دنیا بھر سے ہمدردی اور یکجہتی کے اظہار کے لیے موصول ہونے والے پیغامات پر دوست ممالک اور عالمی رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا ہے۔
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ایکس پر ایک بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ اس گھناؤنے جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور ان کے مذموم عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
خیال رہے کہ اسلام آباد کی امام بارگاہ میں خودکش حملے میں 32 افراد شہید اور 162 افراد زخمی ہوئے، میتیں ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہیں، زخمیوں کا پمز اور پولی کلینک میں علاج جاری ہے۔
وزیر اعظم نے اپنے پیغام میں کہا کہ اسلام آباد میں دل دہلا دینے والے خودکش حملے کے بعد دنیا بھر سے ہمیں ہمدردی اور یکجہتی کے جو پیغامات موصول ہوئے ہیں، ہم اُن کے لیے شکر گزار ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ پاکستان کی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کوششوں میں ہمارے دوستوں اور شراکت داروں کی حمایت اور تعاون ہمیشہ سے نہایت اہم رہا ہے، اس نازک گھڑی میں بہادر پاکستانی قوم متحد رہے اور دہشت گردی کو شکست دینے کے اپنے عزم پر پہلے کی طرح مضبوطی سے قائم رہے۔
دوسری جانب خودکش دھماکے کے بعد علاقے کی فضا اب بھی سوگوار ہے، ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکے میں چار سے چھ کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا جبکہ بڑی تعداد میں بال بیئرنگ بھی استعمال کی گئی۔
خودکش حملہ آور نے پہلے پستول سے چھ فائر کیے، مسجد کے مرکزی ہال میں جاکر خود کو اڑالیا، خودکش بمبار افغانستان سے تربیت یافتہ نکلا، ٹریول ہسٹری موجود ہے، حملہ آور کا شناختی کارڈ جائے وقوعہ سے مل گیا۔
مبینہ خودکش حملہ آورکی شناخت یاسر ولد بہادر خان کے نام سے ہوئی ہے، حملہ آور محلہ قاضیاں پشاور کا رہائشی تھا، پشاور سے خودکش بمبار کے چار رشتے داروں کو بھی گرفتار کرلیا گیا، ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ مکمل کرلی گئی ہے، دھماکے میں شہید افراد کی اجتماعی نماز جنازہ گیارہ بجے ادا کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔