صحافیوں کیخلاف سیاسی دبائو کے تحت مقدمات قابل تشویش ہے‘ندیم احمد
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) انسپکٹر جنرل آف پولیس سندھ، جاوید عالم اوڈھو سے سینٹرل پولیس آفس (CPO) کراچی میں کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن (سی آر اے) کی گورننگ باڈی کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں صحافیوں کو درپیش مسائل، آزادیِ صحافت، اور جرائم کے خاتمے میں میڈیا کے کلیدی کردار پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ملاقات میں وفد کی سربراہی صدر سی آر اے سمیر قریشی نے کی۔ وفد کے دیگر ممتاز شرکاء میں درج ذیل اراکین ، عبید اللہ شاہ (نائب صدر)، ندیم احمد (جنرل سیکریٹری)، آصف خان (سیکریٹری اطلاعات)، اکرم قریشی (خازن)۔گورننگ باڈی اراکین میں عدنان راجپوت، اورنگزیب جبار، ثاقب عالم، صبا عروج خان، اظہر زیدی، مطلوب بیگ اور وحید جیلانی شامل تھے،پولیس حکام میں ایس ایس پی میڈیا اینڈ پبلک ریلیشنز اور ڈائریکٹر پریس سی پی او بھی اس موقع پر موجود تھے۔ملاقات کے دوران سی آر اے کے وفد نے آئی جی سندھ کو صحافیوں کی تربیت، فلاحی سرگرمیوں اور آگاہی مہمات سے متعلق بریفنگ دی۔ تاہم، گفتگو کا ایک اہم رخ صحافیوں کے خلاف سیاسی بنیادوں پر درج مقدمات کی جانب رہا۔جنرل سیکریٹری ندیم احمد نے فرائض کی انجام دہی کے دوران صحافیوں کے خلاف سیاسی دباؤ کے تحت درج ہونے والے مقدمات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایسے اقدامات آزادیِ اظہارِ رائے کے لیے شدید خطرہ ہیں۔ ملاقات میں طے پایا کہ صحافیوں سے متعلق کسی بھی شکایت یا قانونی مسئلے کی صورت میں کرائم رپورٹرز ایسوسی ایشن کو آن بورڈ لیا جائے گا تاکہ باہمی مشاورت سے مسائل حل کیے جا سکیں۔آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کرائم رپورٹرز کی پیشہ ورانہ خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ معاشرے کی اصلاح اور اسٹریٹ کرائم کی نشاندہی میں میڈیا کا کردار “ریڑھ کی ہڈی” کی مانند ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔