ملک میں دہشتگردی کی نئی لہر، سینیئر صحافیوں نے اہم تجاویز دے دیں
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
معروف صحافی و اینکر پرسن ابصار عالم نے ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے تجاویز دے دیں، جبکہ طارق وسیم گجر نے قوم سے اپیل کی ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہوں۔
مزید پڑھیں: ملک میں دہشتگردی کی نئی لہر کے پیچھے پی ٹی آئی ہے، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ
اپنے ایک ویڈیو بیان میں انہوں نے کہاکہ جن ممالک نے دہشتگردی پر قابو پایا انہوں نے سب سے پہلے دہشتگردوں کی فنڈنگ روکی جس سے وہ مزید لوگوں کو اپنے ساتھ نہیں جوڑ سکے۔
جن ممالک نے دہشت گردی پہ قابو پایا انہوں نے سب سے پہلے دہشت گردوں کی فنڈنگ روکی جس سے وہ مزید لوگوں کو اپنے ساتھ نہیں جوڑ سکے دوسرا انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن میں دہشت گرد تنظیموں کے سرغنوں کو مارا گیا جب تک مرکزی ملزم نہیں مارا جاتا دہشت گردی ختم نہیں ہوسکتی جو بھی پاکستان میں بدامنی… pic.
— محفوظ الرحمن اعوان (@mahfooz51871) February 7, 2026
ابصار عالم کے مطابق دوسرا انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز میں دہشتگرد تنظیموں کے سرغنوں کو مارا گیا۔ جب تک مرکزی ملزم نہیں مارا جاتا دہشتگردی ختم نہیں ہوسکتی۔
انہوں نے کہاکہ جو بھی پاکستان میں بدامنی کا ذمہ دار ہے وہ کہیں بھی ہو اس کو ختم کرنے سے ہی پاکستان میں امن قائم ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب سینیئر صحافی طارق وسیم گجر نے کہاکہ پاکستان میں جاری دہشتگردی کو گوریلا جنگ کہا جاتا ہے، ایک غیر روایتی طرزِ جنگ جہاں چھوٹے، متحرک گروہ ’ہِٹ اینڈ رن‘ حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔
پاکستان میں جاری دہشت گردی کو گوریلا جنگ کہا جاتا ہے، ایک غیر روایتی طرزِ جنگ جہاں چھوٹے، متحرک گروہ ہِٹ اینڈ رن حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔
یہ صرف پاکستان کا چیلنج نہیں، بلکہ امریکہ (ویتنام)، یورپ (آئرلینڈ-برطانیہ) جیسے ترقی یافتہ ممالک بھی اس کا سامنا کر چکے ہیں۔
پاکستان کی… pic.twitter.com/hsnTNY8hMk
— Tariq Waseem Gujjar (@tariqwaseem110) February 7, 2026
انہوں نے کہاکہ یہ صرف پاکستان کا چیلنج نہیں، بلکہ امریکا، یورپ اور برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ممالک بھی اس کا سامنا کر چکے ہیں۔
طارق وسیم گجر نے کہاکہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ایک ہی وقت میں بی ایل اے، بی ایل ایف، ٹی ٹی پی اور ان کے سیاسی سہولت کاروں سے مقابلہ کررہی ہیں۔ اگر یہ مہارت نہ ہوتی تو پاکستان کا وجود بھی خطرے میں ہوتا۔
مزید پڑھیں: ’یہ ایک بزدلانہ کارروائی ہے‘، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی اسلام آباد میں خود کش دھماکے کی مذمت
انہوں نے کہاکہ اب ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ دہشتگردی کے خلاف کھڑا ہو۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں نماز کے دوران امام بارگاہ میں خود کش دھماکا ہوا جس میں 30 سے زیادہ افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ابصار عالم اہم تجاویز دہشتگردی طارق وسیم گجر وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ابصار عالم اہم تجاویز دہشتگردی وی نیوز انہوں نے کہاکہ پاکستان میں
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔