اسلام آباد: بشریٰ بی بی کو تین ماہ بعد قریبی رشتہ داروں سے ملاقات کی اجازت ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد میں ذرائع نے بتایا ہے کہ تقریباً تین ماہ کے وقفے کے بعد یعنی 4 نومبر 2025ء کے بعد سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو اپنی بیٹی اور بھابھیوں سمیت قریبی رشتہ داروں سے ملاقات کی اجازت دی گئی۔
ذرائع کے مطابق یہ سہولت بیرسٹر محمد علی سیف کی کوششوں سے ممکن ہوئی، جو انسانی ہمدردی اور قانونی سہولت کاری کے حوالے سے پی ٹی آئی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان رابطوں میں ملوث رہے ہیں۔ ملاقات کے دوران سخت شرط یہ رکھی گئی کہ اس کا کسی بھی سیاسی مقصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ رشتہ داروں کو واضح ہدایت دی گئی کہ وہ کوئی سیاسی پیغام پہنچائیں گے اور نہ وصول کریں۔
ملاقات کے دوران بشریٰ بی بی نے ذاتی نوعیت کی شکایات کا اظہار کیا اور افسوس ظاہر کیا کہ ان کی اور عمران خان کی مسلسل قید کے باوجود پارٹی کی جانب سے کوئی مؤثر کوشش نہیں ہوئی۔ تاہم یہ گفتگو صرف ذاتی احساسات تک محدود رہی اور اس سے کوئی سیاسی پیغام یا ہدایت نہیں نکلی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی محدود انسانی ہمدردی پر مبنی ملاقاتوں کی مستقبل میں اجازت ممکن ہو سکتی ہے، بشرطیکہ مقررہ شرائط کی پاسداری جاری رہے۔
دوسری جانب، عمران خان کے معاملے میں کسی قسم کی نرمی کے آثار فی الحال نہیں دکھائی دے رہے۔ اہل خانہ کے ساتھ ان کی آخری ملاقات صرف مسلسل کوششوں کے بعد ممکن ہوئی تھی، مگر اس کے بعد میڈیا میں ان سے منسوب بیانات کی وجہ سے پابندیاں دوبارہ سخت کر دی گئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جیل ملاقاتیں کسی بھی سیاسی رابطے یا پیغام رسانی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہئیں، اور اس سلسلے میں سخت نگرانی جاری رہے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے بعد
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔