مغرب کا مکروہ چہرہ اور جیفری ایپسٹین
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
آج کل دنیا کے ہر اخبار، الیکٹرونک میڈیا، سوشل میڈیا اور ڈرائنگ روموں میں ایپسٹین فائلز کے بڑے چرچے ہیں تو آئیے ہم بھی دیکھتے ہیں کہ ہماری جو نسلیں مغربی معاشروں کے بارے میں اکثر خواب دیکھتی ہیں۔ فلمیں، میوزک، فیشن اور سوشل میڈیا ہمارے ذہنوں میں ایک روشن اور آزاد دنیا کی تصویر بساتے ہیں، اس دنیا کی گھناؤنی حقیقت کیا ہے۔ اور یہ جنریشن Z کے لیے ایک سبق بھی ہے، کہ مغرب کے اخلاقی دعوے اور انسانی حقوق کی باتیں صرف ایک پردہ ہیں، جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ طاقتور افراد اپنی خواہشات پوری کرنے کے لیے ہر حد سے گزرتے ہیں۔ یہاں اسلام کی تعلیمات ہمیں واضح رہنمائی دیتی ہیں۔ قرآن اور احادیث میں نوجوانوں، بچوں اور خواتین کے حقوق کی حفاظت کو بنیادی فرض قرار دیا گیا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں کسی بھی کم عمر فرد کے ساتھ جنسی تعلقات، استحصال یا بدسلوکی کو سختی سے منع کیا گیا ہے۔سیدنا محمد عربیؐ نے فرمایا کہ بچوں کی عزت اور حفاظت سب سے بڑی ذمے داری ہے۔ اسلام میں یہ بھی واضح ہے کہ رضامندی صرف بالغ اور بالغ فہمی والے افراد کے لیے ممکن ہے۔ کم عمر بچی یا لڑکی کی رضامندی کو کبھی قبول نہیں کیا جاتا۔ اس کی حفاظت والدین، معاشرہ اور قانون کی ذمے داری ہے۔
اسلام یہ بھی سکھاتا ہے کہ معاشرہ صرف قوانین اور ریاستی اداروں سے نہیں بلکہ اخلاق، تربیت اور تعلیم کے ذریعے مضبوط ہوتا ہے۔ والدین کو بچوں کو آسان پیسے، جھوٹے وعدے، یا مشکوک کاموں سے دور رکھنے کے لیے تربیت دینا چاہیے۔ بچوں کو اپنے حقوق، جسمانی حدود اور ’’نہیں‘‘ کہنے کا حق سمجھانا ضروری ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق والدین اور معاشرہ کھلی بات چیت، حفاظت اور رہنمائی کے ذریعے بچوں کو خطرات سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ میں پہلے بھی اس قسم کے موضوعات پر انہی صفحات پر کافی کچھ لکھ چکا ہوں اور لکھتا رہوں گا، جیسے روحانی دہشت گردی، جس میں چرچ کے اندر بچوں، نوجوان لڑکیوں اور عام لوگوں کے ساتھ گزشتہ پانچ دہائیوں میں ہونے والی زیادتیوں کا تذکرہ کیا گیا۔ یہ جرائم برسوں تک چھپائے گئے، مگر اب عالمی میڈیا نے ان کے پردے کھول دیے ہیں۔ مغرب کی یہ دوہری پالیسی واضح کرتی ہے کہ وہ صرف اخلاقی اقدار کا علمبردار نہیں، بلکہ طاقتور لوگوں کے جرائم چھپانے میں بھی ماہر ہے۔ اسی طرح طبی دہشت گردی کے عنوان سے انہی صفحات پر سفید کوٹ پہن کر ہونے والے استحصال کا ذکر کیا گیا، جس میں بچوں اور نوجوان لڑکیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ محض انفرادی واقعات نہیں، بلکہ ایک منظم نظام کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں طاقت، دولت اور شہرت کی آڑ میں بے بس لوگوں کا استحصال کیا جاتا ہے۔ اب اس مکروہ حقیقت کی تازہ مثال جیفرے ایپسٹین کیس ہے اس ابلیس نما انسان کا پورا نام جیفری ایڈورڈ ایپسٹین ہے جو کہ بروکلین نیویارک امریکا میں جنوری 1953 میں ایک مالی کے گھر پیدا ہوا۔ اور 66 سال کی عمر میں اس کی موت جیل میں واقع ہوئی اور سرکاری موقف کے مطابق اس نے خود کشی کی تھی۔
اب تھوڑا نظر ڈالتے ہیں کہ یہ ایپسٹین فائلز کیا ہیں۔ امریکی محکمۂ انصاف نے تقریباً 3 ملین صفحات دستاویزات جاری کیے ہیں، جو کیس کی تفتیش، عدالت کے ریکارڈز، خطوط، ای میلز اور دیگر تحریری مواد پر مشتمل ہیں۔ اصل فائلز کْل 6 ملین صفحات تک سمجھے جاتے تھے، لیکن صرف نصف سے زیادہ حصہ اب تک عوامی طور پر جاری ہوا ہے۔ اس تازہ ریلیز میں تقریباً 180,000 تصاویر شامل ہیں، جن میں بعض تصاویر کیس سے متعلق اشیاء، ایپسٹین کے قریبی ریکارڈز، اور مشہور شخصیات کے ساتھ تعلقات کی جھلک شامل ہو سکتی ہیں۔ جاری شدہ مواد میں تقریباً 2,000 ویڈیوز بھی شامل ہیں، جن میں کچھ کیس سے براہِ راست تعلق رکھتی ہیں اور کچھ دیگر متفرق ریکارڈز یا حملہ آور ویڈیوز ہو سکتی اب دیکھتے ہیں کہ یہ پورا ڈراما کہاں اسٹیج کیا گیا۔ Little Saint James جس کا دوسرا نام ایپسٹین جزیرہ کے نام سے مشہور ہے، امریکی ورجن آئی لینڈز (United States Virgin Islands) میں واقع ہے، جو کیریبین سمندر میں ہیں۔ 70 ایکڑ (28 ہیکٹر) کے قریب رقبہ رکھتا ہے۔ جوکہ تقریباً 40 فٹبال گراؤنڈ کے برابر ہوگا۔ یہ جزیرہ بہت ہی تنہائی والا ہے اور صرف نجی ہیلی کاپٹر یا ذاتی کشتی کے ذریعے پہنچے جا سکتے ہیں، جس کی وجہ سے ایپسٹین اسے اپنے پراسرار اور نجی مقاصد کے لیے استعمال کرتا تھا۔ ان فوٹوز؍ ویڈیوز میں جن شخصیات کو دکھایا گیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو ہمارے ملک کے نوجوان آئیڈیل اور ہیرو سمجھتے ہیں۔ آپ کی معلومات کے لیے مندرجہ ذیل نام آئے ہیں۔
بل کلنٹن سابق امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ موجودہ امریکی صدر، ایلون مسک، بل گیٹس، ایہود باراک سابق اسرائیلی وزیر اعظم لارے سمرز سابق امریکی خزانہ سیکرٹری ؍ ماہر اقتصادیات، پرنس اینڈریو برطانیہ کے شاہی خاندان کا فرد، سارہ فرگوسن، شاہی خاندان سے تعلقات، مائیکل جیکسن عالمی مشہور گلوکار، مک جیگر Rolling Stones کے رہنما، ناؤمی کیمپبل سپرماڈل ،کرس ٹکر اداکار؍ کامیڈین، ڈیوڈ کاپر فیلڈ جادوگر، انٹرٹینر، ریڈ ہافمی LinkedIn کے شریک بانی۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو ہمارے ملک کے نوجوان آئیڈیل اور ہیرو سمجھتے ہیں۔ لیکن امید ہے کہ یہ کالم پڑھ کر آپ کے ہوش ٹھکانے آگئے ہوں گے۔ یہ سب اپنے وقت کے طاقتور ترین لوگ ہیں اور تھے لیکن مغرب کا قانون جن کے ہم گن گاتے ہیں ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکا۔ لیکن ان کا گھناؤنا اور غلیظ چہرہ اس میں آشکار ہوا ہے۔ شاید اسی لیے ہمارے علمائے کرام ہمیں یہ درس وقتاً فوقتاً دیتے رہتے ہیں کہ اگر آپ کو ہیرو اور آئیڈیل بنانا ہے تو صحابہ کرامؓ کو بنائیں جن کا ماضی، حال اور مستقبل ہمارے سامنے روز روشن کی طرح عیاں ہے، ان جیسے مصنوعی ہیروز، مائیکل جیکسن، سپر مین، اسپائیڈر مین وغیرہ جیسے تصوراتی ہیروز کی زندگی کے پیچھے جانا چھوڑ دو۔ اس شیطانی جزیرے میں جو طریقہ واردات اختیار کیا گیا وہ یہ تھا کہ شروع میں 13 سے 17 سال کی بچیوں کو ابتدا میں مساج کے جھانسے میں بلایا گیا اور پھر آہستہ آہستہ انہیں ایک منظم جنسی استحصال اور پروسٹیٹیوشن کے نیٹ ورک کا حصہ بنایا گیا۔ اس نیٹ ورک میں بڑے شاہی خاندان کے افراد، عالمی بزنس ٹائیکون اور دیگر بااثر شخصیات شامل تھے۔ یہ کیس مغرب کی اخلاقی دھوکا دہی کا ایک خوفناک اور عملی ثبوت ہے۔
مغربی میڈیا جسے ہم آزادیٔ اظہار اور شفافیت کی علامت سمجھتے ہیں، اکثر دوہرا معیار اختیار کرتا ہے۔ جہاں وہ چھوٹے ملکوں، کمزور طبقوں یا غیر مسلم معاشروں میں کسی بھی خلاف ورزی کو فوری اُجاگر کرتا ہے، وہاں اپنی طاقتور شخصیات، امیر اور سیاسی حلقوں کے جرائم کو چھپانے یا کم کرنے میں مہارت رکھتا ہے۔ جیفرے ایپسٹین کیس اس منافقت کی واضح مثال ہے: ایک طرف میڈیا نے متاثرہ لڑکیوں کی داستان کو کچھ حد تک دکھایا، مگر طاقتور شخصیات کے نام، کردار اور جزائر کی حقیقت کو چھپانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ حق کو چھپانا یا طاقتور کے لیے رعایت کرنا ظلم ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اور انصاف کرو، خواہ وہ تمہارے نزدیک رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں‘‘۔ (سورۂ النساء: 135) یعنی کسی کی طاقت، دولت یا شہرت کی وجہ سے انصاف سے انحراف کرنا، چاہے وہ میڈیا کے ذریعے ہو، اسلامی تعلیمات کے مطابق بالکل ناقابل قبول ہے۔
امیر محمد کلوڑ
سیف اللہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے ذریعے کیا گیا ہیں کہ کے لیے
پڑھیں:
والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
سوشل میڈیا کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ’میٹا‘ نے دنیا بھر میں انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر استعمال کرنے والے کم عمر صارفین کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے سخت ترین پابندیوں کا باقاعدہ اطلاق کر دیا ہے۔ ان نئی پالیسیوں کا مقصد نوجوانوں کو نامناسب مواد اور آن لائن ہراسانی سے بچانا ہے۔
دنیا بھر میں نئی سیٹنگز کا فوری اطلاقکمپنی کی جانب سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق انسٹاگرام، فیس بک اور میسنجر پر 13 سال سے زیادہ عمر کے ’ٹین ایج‘ اکاؤنٹس پر مواد کے حوالے سے نئی اور زیادہ سخت سیٹنگز لاگو کر دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:میٹا نے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کے بامعاوضہ فیچرز متعارف کرا دیے
واضح رہے کہ ان سخت ترین سیکیورٹی فیچرز کو سب سے پہلے اکتوبر 2026 میں امریکا، آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا میں آزمائشی طور پر متعارف کرایا گیا تھا تاہم اب 2 جون سے اس کا دائرہ کار دنیا بھر کے تمام ممالک تک پھیلا دیا گیا ہے۔
نامناسب مواد اور سرچ رزلٹس پر مکمل بلاکنگنئی تبدیلیوں کے تحت اب کم عمر صارفین ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا مواد نہیں دیکھ سکیں گے اور نہ ہی انہیں فالو کر سکیں گے جو اکثر اور بیشتر غیر اخلاقی یا نامناسب مواد شیئر کرتے ہیں۔
میٹا کا کہنا ہے کہ ایسے تمام مشکوک اور غیر موزوں اکاؤنٹس کو 18 سال سے کم عمر صارفین کی تجاویز(ریکومینڈیشنز) اور تلاش کے نتائج (سرچ رزلٹس) میں مکمل طور پر بلاک کر دیا جائے گا تاکہ بچے ان تک پہنچ ہی نہ سکیں۔
الائس کمپنی کے ساتھ اشتراک اور سرچ پر پابندی’میٹا‘ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی مشہور عالمی تنظیم ’سیفٹی کمپنی الائس‘ کے ساتھ مل کر مستقبل میں بھی کم عمر صارفین سے متعلق نئے فیچرز کو تیار اور ٹیسٹ کرے گی۔
یاد رہے کہ اکتوبر میں جب انسٹاگرام پر اس سیٹنگ کا آغاز ہوا تھا، تو یہ واضح کیا گیا تھا کہ کم عمر صارفین کو مخصوص سرچ اصطلاحات، جیسے نشہ آور اشیا کے استعمال اور دیگر نقصان دہ موضوعات کو سرچ کرنے سے بھی سختی سے روک دیا جائے گا۔
’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ اور والدین کا کنٹرولسوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کو محفوظ ماحول دینے کے لیے ’لمیٹڈ کانٹینٹ سیٹنگ‘ کا فیچر بھی متعارف کرایا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
اس فیچر کے تحت اب والدین کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اپنے بچوں کو پلیٹ فارم پر کسی بھی تبصرے (کمنٹس) تک رسائی حاصل کرنے سے روک سکیں۔
یہاں تک کہ اس سیٹنگ کے فعال ہونے کے بعد کم عمر صارفین خود اپنی پوسٹس پر آنے والے کمنٹس کو بھی نہیں دیکھ سکیں گے، جس سے وہ کسی بھی قسم کی آن لائن ٹرولنگ یا منفی تبصروں سے محفوظ رہیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اشتراک الائس کمپنی انسٹاگرام بچوں بک پابندی سرچ سوشل میڈیا سیٹنگ عائد فیس فیس بک لمیٹڈ کانٹینٹ میٹا والدین