Jasarat News:
2026-07-24@04:16:37 GMT

مغرب کا مکروہ چہرہ اور جیفری ایپسٹین

اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

آج کل دنیا کے ہر اخبار، الیکٹرونک میڈیا، سوشل میڈیا اور ڈرائنگ روموں میں ایپسٹین فائلز کے بڑے چرچے ہیں تو آئیے ہم بھی دیکھتے ہیں کہ ہماری جو نسلیں مغربی معاشروں کے بارے میں اکثر خواب دیکھتی ہیں۔ فلمیں، میوزک، فیشن اور سوشل میڈیا ہمارے ذہنوں میں ایک روشن اور آزاد دنیا کی تصویر بساتے ہیں، اس دنیا کی گھناؤنی حقیقت کیا ہے۔ اور یہ جنریشن Z کے لیے ایک سبق بھی ہے، کہ مغرب کے اخلاقی دعوے اور انسانی حقوق کی باتیں صرف ایک پردہ ہیں، جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ طاقتور افراد اپنی خواہشات پوری کرنے کے لیے ہر حد سے گزرتے ہیں۔ یہاں اسلام کی تعلیمات ہمیں واضح رہنمائی دیتی ہیں۔ قرآن اور احادیث میں نوجوانوں، بچوں اور خواتین کے حقوق کی حفاظت کو بنیادی فرض قرار دیا گیا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں کسی بھی کم عمر فرد کے ساتھ جنسی تعلقات، استحصال یا بدسلوکی کو سختی سے منع کیا گیا ہے۔سیدنا محمد عربیؐ نے فرمایا کہ بچوں کی عزت اور حفاظت سب سے بڑی ذمے داری ہے۔ اسلام میں یہ بھی واضح ہے کہ رضامندی صرف بالغ اور بالغ فہمی والے افراد کے لیے ممکن ہے۔ کم عمر بچی یا لڑکی کی رضامندی کو کبھی قبول نہیں کیا جاتا۔ اس کی حفاظت والدین، معاشرہ اور قانون کی ذمے داری ہے۔

اسلام یہ بھی سکھاتا ہے کہ معاشرہ صرف قوانین اور ریاستی اداروں سے نہیں بلکہ اخلاق، تربیت اور تعلیم کے ذریعے مضبوط ہوتا ہے۔ والدین کو بچوں کو آسان پیسے، جھوٹے وعدے، یا مشکوک کاموں سے دور رکھنے کے لیے تربیت دینا چاہیے۔ بچوں کو اپنے حقوق، جسمانی حدود اور ’’نہیں‘‘ کہنے کا حق سمجھانا ضروری ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق والدین اور معاشرہ کھلی بات چیت، حفاظت اور رہنمائی کے ذریعے بچوں کو خطرات سے آگاہ کر سکتے ہیں۔ میں پہلے بھی اس قسم کے موضوعات پر انہی صفحات پر کافی کچھ لکھ چکا ہوں اور لکھتا رہوں گا، جیسے روحانی دہشت گردی، جس میں چرچ کے اندر بچوں، نوجوان لڑکیوں اور عام لوگوں کے ساتھ گزشتہ پانچ دہائیوں میں ہونے والی زیادتیوں کا تذکرہ کیا گیا۔ یہ جرائم برسوں تک چھپائے گئے، مگر اب عالمی میڈیا نے ان کے پردے کھول دیے ہیں۔ مغرب کی یہ دوہری پالیسی واضح کرتی ہے کہ وہ صرف اخلاقی اقدار کا علمبردار نہیں، بلکہ طاقتور لوگوں کے جرائم چھپانے میں بھی ماہر ہے۔ اسی طرح طبی دہشت گردی کے عنوان سے انہی صفحات پر سفید کوٹ پہن کر ہونے والے استحصال کا ذکر کیا گیا، جس میں بچوں اور نوجوان لڑکیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ محض انفرادی واقعات نہیں، بلکہ ایک منظم نظام کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں طاقت، دولت اور شہرت کی آڑ میں بے بس لوگوں کا استحصال کیا جاتا ہے۔ اب اس مکروہ حقیقت کی تازہ مثال جیفرے ایپسٹین کیس ہے اس ابلیس نما انسان کا پورا نام جیفری ایڈورڈ ایپسٹین ہے جو کہ بروکلین نیویارک امریکا میں جنوری 1953 میں ایک مالی کے گھر پیدا ہوا۔ اور 66 سال کی عمر میں اس کی موت جیل میں واقع ہوئی اور سرکاری موقف کے مطابق اس نے خود کشی کی تھی۔

اب تھوڑا نظر ڈالتے ہیں کہ یہ ایپسٹین فائلز کیا ہیں۔ امریکی محکمۂ انصاف نے تقریباً 3 ملین صفحات دستاویزات جاری کیے ہیں، جو کیس کی تفتیش، عدالت کے ریکارڈز، خطوط، ای میلز اور دیگر تحریری مواد پر مشتمل ہیں۔ اصل فائلز کْل 6 ملین صفحات تک سمجھے جاتے تھے، لیکن صرف نصف سے زیادہ حصہ اب تک عوامی طور پر جاری ہوا ہے۔ اس تازہ ریلیز میں تقریباً 180,000 تصاویر شامل ہیں، جن میں بعض تصاویر کیس سے متعلق اشیاء، ایپسٹین کے قریبی ریکارڈز، اور مشہور شخصیات کے ساتھ تعلقات کی جھلک شامل ہو سکتی ہیں۔ جاری شدہ مواد میں تقریباً 2,000 ویڈیوز بھی شامل ہیں، جن میں کچھ کیس سے براہِ راست تعلق رکھتی ہیں اور کچھ دیگر متفرق ریکارڈز یا حملہ آور ویڈیوز ہو سکتی اب دیکھتے ہیں کہ یہ پورا ڈراما کہاں اسٹیج کیا گیا۔ Little Saint James جس کا دوسرا نام ایپسٹین جزیرہ کے نام سے مشہور ہے، امریکی ورجن آئی لینڈز (United States Virgin Islands) میں واقع ہے، جو کیریبین سمندر میں ہیں۔ 70 ایکڑ (28 ہیکٹر) کے قریب رقبہ رکھتا ہے۔ جوکہ تقریباً 40 فٹبال گراؤنڈ کے برابر ہوگا۔ یہ جزیرہ بہت ہی تنہائی والا ہے اور صرف نجی ہیلی کاپٹر یا ذاتی کشتی کے ذریعے پہنچے جا سکتے ہیں، جس کی وجہ سے ایپسٹین اسے اپنے پراسرار اور نجی مقاصد کے لیے استعمال کرتا تھا۔ ان فوٹوز؍ ویڈیوز میں جن شخصیات کو دکھایا گیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو ہمارے ملک کے نوجوان آئیڈیل اور ہیرو سمجھتے ہیں۔ آپ کی معلومات کے لیے مندرجہ ذیل نام آئے ہیں۔

بل کلنٹن سابق امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ موجودہ امریکی صدر، ایلون مسک، بل گیٹس، ایہود باراک سابق اسرائیلی وزیر اعظم لارے سمرز سابق امریکی خزانہ سیکرٹری ؍ ماہر اقتصادیات، پرنس اینڈریو برطانیہ کے شاہی خاندان کا فرد، سارہ فرگوسن، شاہی خاندان سے تعلقات، مائیکل جیکسن عالمی مشہور گلوکار، مک جیگر Rolling Stones کے رہنما، ناؤمی کیمپبل سپرماڈل ،کرس ٹکر اداکار؍ کامیڈین، ڈیوڈ کاپر فیلڈ جادوگر، انٹرٹینر، ریڈ ہافمی LinkedIn کے شریک بانی۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو ہمارے ملک کے نوجوان آئیڈیل اور ہیرو سمجھتے ہیں۔ لیکن امید ہے کہ یہ کالم پڑھ کر آپ کے ہوش ٹھکانے آگئے ہوں گے۔ یہ سب اپنے وقت کے طاقتور ترین لوگ ہیں اور تھے لیکن مغرب کا قانون جن کے ہم گن گاتے ہیں ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکا۔ لیکن ان کا گھناؤنا اور غلیظ چہرہ اس میں آشکار ہوا ہے۔ شاید اسی لیے ہمارے علمائے کرام ہمیں یہ درس وقتاً فوقتاً دیتے رہتے ہیں کہ اگر آپ کو ہیرو اور آئیڈیل بنانا ہے تو صحابہ کرامؓ کو بنائیں جن کا ماضی، حال اور مستقبل ہمارے سامنے روز روشن کی طرح عیاں ہے، ان جیسے مصنوعی ہیروز، مائیکل جیکسن، سپر مین، اسپائیڈر مین وغیرہ جیسے تصوراتی ہیروز کی زندگی کے پیچھے جانا چھوڑ دو۔ اس شیطانی جزیرے میں جو طریقہ واردات اختیار کیا گیا وہ یہ تھا کہ شروع میں 13 سے 17 سال کی بچیوں کو ابتدا میں مساج کے جھانسے میں بلایا گیا اور پھر آہستہ آہستہ انہیں ایک منظم جنسی استحصال اور پروسٹیٹیوشن کے نیٹ ورک کا حصہ بنایا گیا۔ اس نیٹ ورک میں بڑے شاہی خاندان کے افراد، عالمی بزنس ٹائیکون اور دیگر بااثر شخصیات شامل تھے۔ یہ کیس مغرب کی اخلاقی دھوکا دہی کا ایک خوفناک اور عملی ثبوت ہے۔

مغربی میڈیا جسے ہم آزادیٔ اظہار اور شفافیت کی علامت سمجھتے ہیں، اکثر دوہرا معیار اختیار کرتا ہے۔ جہاں وہ چھوٹے ملکوں، کمزور طبقوں یا غیر مسلم معاشروں میں کسی بھی خلاف ورزی کو فوری اُجاگر کرتا ہے، وہاں اپنی طاقتور شخصیات، امیر اور سیاسی حلقوں کے جرائم کو چھپانے یا کم کرنے میں مہارت رکھتا ہے۔ جیفرے ایپسٹین کیس اس منافقت کی واضح مثال ہے: ایک طرف میڈیا نے متاثرہ لڑکیوں کی داستان کو کچھ حد تک دکھایا، مگر طاقتور شخصیات کے نام، کردار اور جزائر کی حقیقت کو چھپانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ حق کو چھپانا یا طاقتور کے لیے رعایت کرنا ظلم ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اور انصاف کرو، خواہ وہ تمہارے نزدیک رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں‘‘۔ (سورۂ النساء: 135) یعنی کسی کی طاقت، دولت یا شہرت کی وجہ سے انصاف سے انحراف کرنا، چاہے وہ میڈیا کے ذریعے ہو، اسلامی تعلیمات کے مطابق بالکل ناقابل قبول ہے۔

امیر محمد کلوڑ سیف اللہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے ذریعے کیا گیا ہیں کہ کے لیے

پڑھیں:

عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟

وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔

سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔

مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟

رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔

سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔

سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔

مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف