اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو بدھ کے روز واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ نیتن یاہو کے دفتر کے مطابق ملاقات میں ایران کے ساتھ جاری اور ممکنہ مذاکرات، اس کے جوہری پروگرام اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر بات چیت کی جائے گی۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جوہری معاملات پر دوبارہ سفارتی رابطے شروع ہو چکے ہیں۔

جمعے کے روز ایران اور امریکا کے حکام کے درمیان عمان کے دارالحکومت مسقط میں بالواسطہ جوہری مذاکرات ہوئے۔ دونوں فریقین نے کہا ہے کہ یہ بات چیت جاری رہے گی اور جلد مزید مذاکرات متوقع ہیں۔

ایک علاقائی سفارتکار کے مطابق، جسے تہران نے مذاکرات کی تفصیلات سے آگاہ کیا، ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ یورینیم افزودگی کے اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔ سفارتکار کے مطابق مذاکرات میں ایران کے میزائل پروگرام پر کوئی بات نہیں ہوئی۔

ایران کا میزائل پروگرام: سرخ لکیر

ایرانی حکام پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ایران کے میزائل پروگرام پر کسی بھی قسم کی بات چیت قابلِ قبول نہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں اس کے پاس میزائلوں کا ایک بڑا ذخیرہ ہے، جسے وہ اپنی دفاعی ضرورت قرار دیتا ہے۔

اسرائیلی وزیرِاعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرِاعظم کا ماننا ہے کہ کسی بھی مذاکراتی عمل میں ایران کے بیلسٹک میزائلوں پر پابندیاں اور ایران کے حمایتی نیٹ ورک (ایرانی محور) کی مدد روکنا لازمی ہونا چاہیے۔

نیتن یاہو ٹرمپ ملاقاتوں کی طویل تاریخ

بدھ کی ملاقات صدر ٹرمپ کے جنوری میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد نیتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان ساتویں ملاقات ہوگی۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات پہلے 18 فروری کو متوقع تھی، تاہم ایران کے ساتھ تازہ سفارتی سرگرمیوں کے باعث ملاقات کی تاریخ پہلے کر دی گئی۔

گزشتہ سال جون میں امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کی یورینیم افزودگی اور دیگر جوہری تنصیبات پر فوجی کارروائی میں حصہ لیا تھا۔ یہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکہ کی تاریخ کی سب سے براہِ راست فوجی کارروائی تھی۔

جواب میں ایران نے قطر میں واقع ایک امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملہ کیا تھا۔

خطے میں جنگ کے خدشات

امریکا اور اسرائیل بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ اگر ایران نے یورینیم افزودگی یا میزائل پروگرام کو آگے بڑھایا تو دوبارہ حملے کیے جا سکتے ہیں۔

عالمی طاقتوں اور علاقائی ممالک کو خدشہ ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا اور ایران کے درمیان ایک نئی جنگ چھڑ سکتی ہے، جس کے اثرات پورے تیل پیدا کرنے والے خطے تک پھیل سکتے ہیں۔

ایران کی دھمکی اور خلیجی ممالک کو انتباہ

ایران نے کسی بھی ممکنہ حملے کے خلاف سخت ردِعمل کا اعلان کیا ہے۔ ساتھ ہی ایران نے ان خلیجی عرب ممالک کو بھی خبردار کیا ہے جہاں امریکی فوجی اڈے موجود ہیں کہ اگر وہ کسی حملے میں شامل ہوئے تو وہ بھی ایران کے نشانے پر ہو سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتنیاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتنیاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میزائل پروگرام کے درمیان میں ایران نیتن یاہو ایران کے ایران نے

پڑھیں:

روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن

روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔

کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔

جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل