ایپسٹین کی اسرائیلی فوج اور بستیوں میں مالی تعاون کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
یو ایس انٹرنل ریونیو سروس (IRS) کو جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق، جیفری ایپسٹین فاؤنڈیشن نے "فرینڈز آف دی اسرائیل ڈیفنس فورسز" نامی تنظیم کو فنڈز عطیہ کیے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شائع شدہ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ جیفری ایپسٹین نے اسرائیلی فوج کو اہم مالی عطیات فراہم کیے تھے۔ خبررساں ادارے تسنیم کے بین الاقوامی گروپ کے مطابق، امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے شائع ہونے والی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ جیفری ایپسٹین نے اپنی فاؤنڈیشن کے ذریعے اسرائیلی فوج کی مدد کرنے والے اداروں اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آباد کاری کے منصوبوں کے لیے اہم مالی عطیات مختص کیے ہیں۔ یو ایس انٹرنل ریونیو سروس (IRS) کو جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق، جیفری ایپسٹین فاؤنڈیشن نے "فرینڈز آف دی اسرائیل ڈیفنس فورسز" نامی تنظیم کو فنڈز عطیہ کیے ہیں، جو امریکہ میں کام کرتی ہے اور قابض افواج اور کچھ متعلقہ انفراسٹرکچر کی مالی معاونت میں اسرائیلی فوج کے ساتھ براہ راست تعاون کرتی ہے۔
دستاویزات کے ایک اور حصے میں ایپسٹین کے جیوش نیشنل فنڈ میں مالی تعاون کا تذکرہ ہے، جو کہ متعدد رپورٹس کے مطابق رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں سرگرم ہے اور فلسطینی اراضی پر قبضے اور مقبوضہ علاقوں میں صیہونی بستیوں کی توسیع میں براہ راست کردار ادا کرتی ہے۔ ان دستاویزات کے اجراء نے ایک بار پھر جیفری ایپسٹین فاؤنڈیشن کی مالیاتی سرگرمیوں اور اسرائیلی فوج اور بستیوں کی تعمیر سے متعلق اداروں سے اس کے تعلق کو میڈیا اور قانونی حلقوں کی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے اور اس پر بڑے پیمانے پر ردعمل سامنے آیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جیفری ایپسٹین دستاویزات کے اسرائیلی فوج کے مطابق
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔