محمود اچکزئی کی وزیراعظم کو 8 فروری کے احتجاج میں شریک ہونے کی دعوت، عوام سے جذباتی نہ ہونے کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی نے وزیراعظم شہباز شریف کو 8 فروری کے احتجاج میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے عوام سے جذباتی نہ ہونے کی اپیل کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے اپنے بیان میں کہا کہ کل پورے ملک میں عوام نے اپنے مینڈیٹ چرانے میں غضے کا اظہار دکانیں بند کرکے کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہباز شریف سے کہتا ہوں وہ بھی عوام کے اس سوگ میں شامل ہوجائیں۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ عوام سے اپیل کرتے ہیں ہم نے جذباتی نہیں ہونا۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ ملکی حالات ایسے نہیں کہ عوام کو جذباتی کیا جائے۔ آج ہم اپنی بوئی ہوئی فصل کی کٹائی کررہے ہیں اور پاکستان کو دوسروں کی جنگ میں جھونک چکے ہیں۔
اپوزیشن کا 8 فروری کو ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال کا اعلان، مولانا فضل الرحمان کی حمایت
8 فروری احتجاج؛ تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت اور مولانا فضل الرحمان کی اہم ملاقات
انہوں نے کہا کہ دین میں جبر کرنے سے منع کیا گیا ہے، ہمارے اپنے اعمال کی وجہ سے پاکستان مشکل میں ہے، ہم نے جو کچھ کیا اس میں اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی بھی شامل ہے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ 25 کروڑ عوام کو بندوق کی نوک پر ہراساں کیا گیا، ہم کسی ایجنسی یا ادارے کے خلاف نہیں بلکہ آئین کی بالادستی چاہتے ہیں کیونکہ دستور نے ہمیں اکھٹا کر کے رکھا ہے مگر اس کو پھاڑا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ناانصافی سے ملک نہیں چلتا، آج وفاداری بیچنے والوں کو 90 کروڑ روپے دیے جاتے ہیں جبکہ غریب مرتا ہے تو تیس چالیس لاکھ دے دیے جاتے ہیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل محمود خان اچکزئی نے نے کہا کہ
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔