کراچی میں مختلف حادثات، 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
—فائل فوٹو
کراچی کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے حادثات میں 2 افراد جاں بحق اور 4 زخمی ہو گئے۔
کراچی کے علاقے اورنگی میں گلشن بہار پاکستان بازار کے قریب ڈمپر کی ٹکر سے موٹر سائیکل شخص جاں بحق ہو گیا۔
پولیس کے مطابق ٹکر مارنے والا ڈمپر کا درائیور موقع سے فرار ہو گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ متوفی کی شناخت نہیں ہو سکی اس کی لاش کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ناگن چورنگی: بس اور موٹرسائیکل میں ٹکر، ایک شخص جاں بحقدوسری جانب ناگن چورنگی کے قریب بس اور موٹرسائیکل کے درمیان ٹکر ہوئی ہے۔
ریسکیو کے مطابق حادثے میں موٹرسائیکل سوار جاں بحق ہو گیا۔
کراچی کے علاقے کورنگی کراسنگ میں ندی کے قریب چنگچی رکشہ الٹنے سے 4 افراد زخمی ہو گئے۔
سائٹ ایریا خیبرگیٹ کے قریب بس الٹ گئیادھر سائٹ ایریا خیبرگیٹ کے قریب بس الٹ گئی، حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کے قریب
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔