پاکستان معاشی مواقع کھورہاہے !
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
حمیداللہ بھٹی
زرعی ملک کی شناخت رکھنے والا پیارا پاکستان آج صنعتی حوالے سے کچھ قابلِ قدرمقام کے قریب ہے، مزید اطمینان بخش پہلو یہ کہ تمام بڑی طاقتوں سے خوشگوار مراسم ہیں، ماضی میں ایسی نظیر کم ہی ملتی ہے۔ اگر امریکہ سے دوستی میں سرد مہری آئی تو روس کی طرف تھوڑا جھکائو کرلیا یا پھر شہد سے میٹھی اور سمندرسے گہری چین دوستی سے خودکوتسلی دے لی ،لیکن گزشتہ برس مئی کی جھڑپوں نے پاکستان کی اہمیت،طاقت اورافادیت کی تصدیق کردی اب کمزور ی کا تاثر ختم ہوچکا ہے ۔دنیاسمجھ گئی ہے کہ یہ ملک تمام ڈھانچہ جاتی کمزریوں کے باوجود دفاعی حوالے سے کسی بھی میدان میںغیر متوقع نتائج دے سکتا ہے۔ اسی بنا پر تو وہ امریکہ جس کاخطے میں بھارت ترجیحی تزویراتی اتحادی ہے بھی پاکستان کو ساتھ لیکر چلنے لگا ہے۔ روس اور چین سے بھی اچھے مراسم ہیں۔ اِن حالات میں ضرورت اِس امر کی ہے کہ عالمی مہربانیوں سے فائدہ اُٹھا کرملک کی لاغر معیشت درست کی جائے تاکہ خطے کے ساتھ عالمی کردار مستحکم رہے۔ بدقسمتی سے ایسا نہیں ہورہابلکہ پاکستان معاشی مواقع کھو رہا ہے اور دستیاب عالمی مواقع سے فائدہ نہیں اُٹھایاجا رہا بلکہ سارا زور یہی بتانے پر ہے کہ دیکھو دنیا کی تمام بڑی طاقتوں سے اچھے تعلقات ہیں ۔
کم امریکی محصولات ،یورپی یونین سے جی ایس پلس کی سہولت ،عرب اور وسط ایشیائی ممالک کی طرف سے تجارتی نرمی اورچین کافیاضانہ رویہ ایسے مثبت پہلو ہیں جوملکی معیشت لیے فائدہ مندثابت ہو سکتے ہیں۔ ایک اور اہم پہلو یہ کہ چین اور سعودی عرب دو ایسے ممالک ہیں جو پاکستان کو دفاعی کے ساتھ معاشی طورپر مستحکم دیکھنے کے سنجیدگی سے خواہشمندہیں اور اِس وقت کئی اہم منصوبوں سے جڑے ہیں ۔یہ خواہش اُن کی اپنی بھی ضرورت ہے کیونکہ مضبوط اور خوشحال پاکستان اُن کے مفادات کی بہتر نگہبانی کرسکتاہے۔ خوش قسمتی سے اِن دونوں کا شمار امیر ممالک میں ہوتا ہے۔ لہٰذاسرمایہ کاری حاصل کرنا آسان ہے۔ اِن ممالک سے بھی پاکستان خاص فائدہ نہیںلے رہا۔اگر سعودیہ سے موخر ادائیگی پر تیل حاصل کرنے پر نظر ہے تو چین سے مزیدقرضے لینے اور ادائیگی موخرکرانے پر توجہ ہے۔ یہ وقت گزار پالیسی ملک کو مزیدمعاشی گرادب کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ اگر منصوبہ بندی سے کام لیاجائے تو دستیاب مواقع سے فائدہ اُٹھاکر پاکستان چند برسوں میں معاشی استحکام کی طرف آ سکتا ہے ۔مگر جانے معاشی ماہرین کی نظر میں وہ کون سے پہلو ہیں جو معیشت سے بھی زیادہ اہم ہیں ؟ ایک ارب ڈالر کی ادائیگی پرمتحدہ عرب امارات کاساڑھے چھ فیصد شرح سودپر ایک ماہ کا وقت دینا جوہری پاکستان کے لیے شرمندگی ہے جس کا شایدحکمرانوں کواحساس تک نہیںاور وہ تصوراتی دنیا میں گم ہیں۔ معاشی مواقع سے تبھی فائدہ ہو سکتا ہے جب توجہ خودانحصاری پر ہو،پیداواری شعبے کی استعداد بڑھے اور قرض حاصل کرنے کوہی فن تصور نہ کیا جائے ۔
اِس وقت پاکستان اگر دفاعی حوالے سے اچھے مقام پر ہیں تو تجارت میں پستی کی طرف گامزن ہے امریکہ ،یورپ،چین ،وسط ایشیائی اور عرب ممالک کو برآمدات کم ہورہی ہیں اور دیگر ممالک کو اِن منافع بخش منڈیوں میں قدم جمانے کا موقع مل رہاہے جس سے اِس قیاس کوتقویت ملتی ہے کہ ملک کے معاشی ارسطویا تو ناکام ہو چکے ہیں یا پھروہ کام کرناہی چھوڑ بیٹھے ہیں ۔وگرنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ دستیاب مواقع سے فائدہ اُٹھانے کے لیے مالِ تجارت بڑھانے پر توجہ ہی نہ دی جائے اورزرعی وصنعتی شعبوں کا بھٹہ بٹھا دیا جائے ۔بے زاری ، لاپرواہی ، سُستی اور کاہلی ملک کو اُ س مقام پر لے آئی ہے کہ ہمارے پاس عالمی منڈیوں کے لیے کچھ بہت زیادہ نہیں رہا۔ زرعی ملک کی شناخت رکھنے والا پاکستان خوراک میں خودکفالت کی منزل کھوچکاہے ۔گندم،چینی،خوردنی تیل جیسی مصنوعات درآمد کرنے پر مجبور ہے۔ صنعتوں کا یہ حال ہے کہ بے رحم پالیسیاںصنعتی پہیہ جام کرنے لگی ہیں۔ صنعت وزراعت پر سرمایہ کاری کی بجائے مالدارلوگ جائیداد کی خرید وفروخت پرسرمایہ کاری کرنامنافع بخش تصورکرتے ہیں ،جس سے زرعی رقبہ خطرناک حد تک کم ہورہا ہے اگر اِس پالیسی پر جلد نظرثانی نہ ہوئی اور زرعی زمینوں پر رہائشی مکانات بنانے کی حوصلہ افزائی ہوتی رہی تو پاکستان ہمیشہ کے لیے خوراک میں خودکفالت کی منزل سے دورہوجائے گا۔ یہ معیشت کے لیے اچھا نہیں ہوگا۔مزید ستم یہ کہ پانی کی خطرناک کمی سے زرعی پیداوار ویسے ہی مشکل ہوتی جارہی ہے۔ اِ ن حالات میں اگر زرعی ماہرین کی تجاویز پر عمل ہواور زرخیز زمینوں کی بجائے بنجر علاقوں کی طرف آبادیاں بنائی جائیں تو زرخیز زرعی رقبے کانقصان رُک سکتا ہے اور کسانوں کوبہتر بیج اور کھاددے کرملک کو خوراک میں دوبارہ خودکفیل کیاجا سکتاہے ۔
معاشی ناہمواری کے نقصانات سیاسی استحکام پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں لیکن حکمران طبقہ شاید یہ سمجھنے سے قاصر ہے اور اپنی حکمرانی کو ہی ملکی استحکام سمجھ بیٹھاہے۔ ملک میں بے روزگاری کی شرح 7.
٭٭٭
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: افرادی قوت مواقع سے سے فائدہ سکتا ہے ہے اور کے لیے سے بھی کی طرف ملک کی
پڑھیں:
جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
سٹی 42: علیمہ خانم نے فیکٹری ناکہ پر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا آج بھی بانی سے ملاقات کے لئے آئے ہیں یہ ہمارا آئینی قانونی حق ہے
علیمہ خانم نے کہااگر آج ملاقات نہ ہوئی تو دیکھیں گے ،اگر بانی کے لئے کھڑے نہ ہوں تو کیا کریں آپکا خیال ہے یہاں کچھ قانون کی مطابق چل رہا ہے،کونسا قانون ہے۔ہم عدلیہ اور آزاد میڈیا کے لئے کھڑے ہیں۔ہم اپنے دفاع میں آپ لوگوں(میڈیا)کو پیش کریں گے۔انکو تو جیل میں ڈالنے کا بہانہ چاہیئے،کس کس کو ڈالیں گے جیل میں۔بانی کہہ چکے کہ پاکستان اسی طرف جا رہا ہے جس طرف نیپال،بنگلہ دیش اور سری لنکا گئے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
بانی سے سابق آرمی چیف کی ملاقات کے بارے میں بیرسٹر گوہر سے پوچھا تھا ۔بانی سے ملنے کوئی نہیں گیا،یہ فیک ہے،جان بوجھ کر دیا انفارمیشن پھیلا رہے ہیں ۔
جب انکو لگتا ہے ٹمپریچر اوپر جا رہا ہے،اسکو ٹھنڈا کرنے کے لئے یہ باتیں شروع ہو جاتی ہیں ڈیل کی ۔میں نے بیرسٹر گوہر سے محسن نقوی کی ملاقات کا پوچھا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ ملے ہیں ۔
بیرسٹر گوہر ن نے کہا محسن نقوی کہتے ہیں کہ کل آپ کی ملاقات کروا دیتے ہیں ۔میں نے کہا وہ جھوٹ بولتے ہیں آپ ان کو کہیں کہ وہ بانی کو اسپتال میں علاج کروائیں۔بیرسٹر گوہر کو کہا تھا کہ آپ نے ملاقات کرنی ہوتو ہم سب کو بتا دو،اسی طرح ہونا چاہیئے ۔کچھ نہیں ہو رہا،اپکو نظر آرہا ہے کہ کچھ ہو رہا ہے ۔یہ خوف سے بھرے ہوئے ہیں،یہ خوف نظر نہیں آرہا،اج سڑک پر کرفیو لگا دیا ہے ۔وہ کہتے ہیں بشری بی بی کی بیٹی سے ملاقات کے بعد سوال میں پوچھنا ۔انکا مطلب یہ ہے کہ بانی کی صحت کے بارے میں نہیں پوچھنا ۔مجھے نہیں پتہ یہ ملاقاتیں کس مقصد کے لئے ہوتی ہیں۔ہمیں یہ پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں،حکومت یہ چیزیں کرکے اپنا خوف دکھا رہی ہے ۔نئی سیاست بانی کو رہا کروانا ہے،جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
جب آپ ووٹ چوری کرو گے تو اسکے نتائج کیا ہوں گے؟جب وہ بے بسی محسوس کریں گے آپ جان جان کے جھوٹے الیکشن کروا گے،لاٹھی چارج کرو،یہ ڈرامہ کر رہے ہو،ظلم کر رہے ہیں۔آپ انکے امیدواروں کو مار رہے ہو یہ خوفزدہ لوگ کرتے ہیں ۔یہ پی ٹی آئی کا نہیں لوگوں کا حق ہے،آپ نے کسی کو گرفتار کرلیا،کسی کو جہاز نہیں چڑھنے دیا کیا فرق پڑا ۔ان کے پیچھے عوام نہ کھڑی ہو وہ یہی کرتے ہیں ۔ظلم وہ کرتا ہے جسکے ساتھ عوام نہیں ہوتی ۔وہ بانی کو کہہ رہے ہیں منہ بند رکھو،
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
ایران کو دیکھ لیں لیڈر قربانیاں دے رہے یہ انکے لئے نارمل چیز ہے ۔بانی اپنی جان کی قربانی دینے کو تیار ہے،وہ ان لوگوں کے ساتھ کیا ڈیل کرکے نکلے گا ۔ڈیل ایک ہی ہے آزاد عدلیہ،ازاد اور منصفانہ انتخابات ۔آپ عدلیہ ازاد کریں،ازاد منصوبہ انتخابات کون یقینی بناتا ہے آزاد عدلیہ۔
افغانستان اور پاکستان کے دونوں اطراف رشتے دار ہیں ،بانی کہتے ہیں یہ حکومت انکے فیور میں ہے،یہ جان جان کر اس حکومت سے چھیڑا چھاڑی کررہے ہیں ۔اپنے ہمسائے کے ساتھ بہت اچھا بنا کر رکھنی چاہیئے۔
آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان
افغانستان اپنی زاد خارجہ پالیسی کے تحت روس،چین کے ساتھ معاہدے کرکے ملک کر ترقی کی جانب لیکر جا رہے ہیں ۔آپ نے بارڈر اور ایکسپورٹ بند کرکے ملک بلین ڈالرز کا نقصان کردیا۔ ہم انکے ساتھ ایکسپورٹ بند کریں گے وہ ایران سے لے لیں گے،ایران کی ایکسپورٹ بڑھ جائے گی ۔وہ پارٹیاں نہیں لوٹ مار کی کمپنیاں ہیں،
ہم بھائی کے لئے کھڑے ہیں ہر چیز کریں گے ۔اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو بانی سے سلیکٹ کیا،کہ وہ میچور سیاستدان ہیں ۔سیدھی سے بات ہے جو انکا قانونی حق ہے وہ دے دیں ۔ بانی کو بھی پتہ ہے ان پر پریشر ڈالیں گے تو میز پر بیٹھیں گے
لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز