رمضان المبارک میں روزےکادورانیہ کس ملک میں طویل اور کس ملک میں مختصر ہوگا؟
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
ویب ڈیسک: رمضان المبارک کے آغاز میں اب صرف ایک ہفتہ باقی رہ گیا ہے اور دنیا کے مختلف ممالک میں روزے کے دورانیے میں واضح فرق دیکھا جا رہا ہے۔ اس سال شمالی ممالک میں دن زیادہ لمبے ہونے کی وجہ سے روزے 16 گھنٹے یا اس سے زائد رہ سکتے ہیں، جبکہ جنوبی اور خطِ استوائی ممالک میں روزے کے اوقات 11 سے 14 گھنٹے کے درمیان متوقع ہیں۔
ایسے علاقوں میں جہاں دن غیر معمولی طور پر لمبا یا مختصر ہو،مکہ یا قریبی معتدل شہر کے اوقات اپناسکتے ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق رمضان 2026 کی ابتدا 19 فروری کو متوقع ہے، حالانکہ چاند کے نظارے پر یہ 18 فروری کو بھی شروع ہو سکتا ہے۔
بانی پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس کے ٹرائل کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
اس سال روزے کے اوقات پچھلے سال کے مقابلے میں کم ہوں گے، جس سے مومنین کے لیے روزہ رکھنا کچھ آسان ہو جائے گا۔ شمالی ممالک جیسے شمالی روس، گرین لینڈ، آئس لینڈ، ناروے، سویڈن اور فن لینڈ میں روزے کی مدت 16 گھنٹے یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔