امریکی گلوکارہ اور نغمہ نگار شیریل کرو نے جیفری ایپسٹین تحقیقات سے متعلق دستاویزات کے اجرا کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے اور ان کی گرفتاری کا مطالبہ کر دیا، جس سے بااثر شخصیات کے احتساب پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

انسٹاگرام اسٹوریز پر جاری بیان میں شیریل کرو نے کہا کہ ایپسٹین فائلز سے متعلق مختلف ممالک میں نامزد افراد کو نتائج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، مگر امریکا میں یا تو اس معاملے کو نظر انداز کیا جا رہا ہے یا اسے جھوٹ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بااثر رہنماؤں کو بچوں کے استحصال سے متعلق الزامات پر جواب دہ نہ ٹھہرایا گیا تو یہ انصاف کے اصولوں کے خلاف ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے: ’ایک لمبی سویڈش سنہرے بالوں والی خاتون‘، انیل امبانی کی جیفری ایپسٹین سے فرمائش کا انکشاف

انہوں نے لکھا کہ ٹرمپ کے ساتھ ساتھ ہر وہ شخص، خواہ وہ ڈیموکریٹ ہو یا ریپبلکن، امریکی ہو یا غیر ملکی، جسے اس معاملے کا علم تھا اور اس نے خاموشی اختیار کی، اسے بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔

ایپسٹین فائلز ٹرانسپیرنسی ایکٹ کے تحت حال ہی میں تقریباً 30 لاکھ صفحات، ویڈیوز اور تصاویر جاری کی گئی ہیں، جن میں متعدد بااثر شخصیات کے ناموں کا ذکر ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ صرف نام آنا مجرمانہ عمل کا ثبوت نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیے: ایپسٹین کیس: بل اور ہلیری کلنٹن نے کھلی سماعت کا مطالبہ کر دیا

ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں ایپسٹین سے کسی بھی غلط تعلق کی تردید کر چکے ہیں۔ ادھر محکمہ انصاف نے واضح کیا ہے کہ مزید دستاویزات جاری نہیں کی جائیں گی اور قانونی تقاضے پورے کر دیے گئے ہیں۔

شیریل کرو نو مرتبہ گریمی ایوارڈ یافتہ گلوکارہ ہیں اور 2023 میں انہیں راک اینڈ رول ہال آف فیم میں شامل کیا گیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

جیفری ایپسٹین ڈونلڈ ٹرمپ گرفتاری.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: جیفری ایپسٹین ڈونلڈ ٹرمپ گرفتاری ڈونلڈ ٹرمپ شیریل کرو

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان