حال ہی میں شادی کرنے والی لائبہ خان کا مستقبل کی دلہنوں کو اہم مشورہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
حال ہی میں شادی کے بندھن میں بندھنے والی خوبرو اداکارہ لائبہ خان نے مستقبل کی دلہنوں کو اہم مشورے سے نواز دیا۔
اداکارہ لائبہ خان کا کہنا ہے کہ مستقبل کی دلہنوں کو مہنگے عروسی لباس پر غیر ضروری اخراجات کے بجائے سونے کے زیورات میں سرمایہ کاری کو ترجیح دینی چاہیے۔
لائبہ خان نے کہا کہ عروسی لباس عموماً صرف ایک بار پہنا جاتا ہے، اس لیے لاکھوں روپے خرچ کرنے کے بجائے اسے کرائے پر لینا زیادہ بہتر آپشن ہے۔
ان کے مطابق مہنگے کپڑوں کے مقابلے میں سونے کے زیورات نہ صرف شادی کے بعد بھی کام آتے ہیں بلکہ مستقبل میں ایک قیمتی اثاثہ بھی ثابت ہوتے ہیں۔
اداکارہ کا کہنا تھا کہ بچپن سے شادی کا شوق ضرور تھا مگر وقت کے ساتھ یہ احساس ہوا کہ شادی محض ایک تقریب نہیں بلکہ ایک بڑی ذمہ داری ہے جو زندگی کو مکمل طور پر بدل دیتی ہے۔ ان کے مطابق شادی سے پہلے ذہنی طور پر تیار ہونا بے حد ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر انسان خود کو شادی کی ذمہ داریوں کیلئے تیار محسوس نہ کرے تو صرف خواہش کے تحت یہ فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ شادی کے بعد آنے والی ذمہ داریوں کو سمجھنا اور نبھانے کی صلاحیت ہونا لازمی ہے۔
لائبہ خان نے بتایا کہ وہ کافی عرصے سے شادی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ رہی تھیں اور جب انہیں لگا کہ یہ بالکل درست وقت ہے تو انہوں نے گھر والوں سے بات کی اور شادی کا فیصلہ کرلیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
جاپان نے شدید گرمی میں کام کرنے والے افراد کے لیے ایک منفرد ٹھنڈا کرنے والا کیبن متعارف کرا دیا ہے جسے ‘انسانی ریفریجریٹر’ کہا جا رہا ہے۔
یہ آلہ چند منٹ میں جسم کا درجہ حرارت کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور خاص طور پر تعمیراتی شعبے، فیکٹریوں اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے افراد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بڑھتی گرمی انسانی دماغ پر کیا اثر ڈال رہی ہے؟
جاپانی کمپنیوں کی تیار کردہ اس مشین کو ‘دو ہائیمون باکس’ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک چھوٹے کمرے یا کیبن کی طرح ہے جس میں ایک شخص داخل ہوکر گرمی سے فوری راحت حاصل کرسکتا ہے۔ اس کے اندر درجہ حرارت تقریباً 15 ڈگری سینٹی گریڈ رکھا جاتا ہے جبکہ ٹھنڈی ہوا سر، گردن، کندھوں اور کمر کی جانب پھینکی جاتی ہے۔
کمپنی کے مطابق چند منٹ کے استعمال سے جسم کو ٹھنڈک کا احساس ہونا شروع ہوجاتا ہے، جبکہ تقریباً 10 منٹ تک اس میں رہنے سے شدید گرمی کے اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ نظام پورے کمرے کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے صرف انسان کے جسم کو ٹھنڈا کرنے پر توجہ دیتا ہے، جس سے توانائی کی بچت بھی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریفریجریٹر سے پہلے پانی ٹھنڈا کرنے کی سعودی صحرائی ایجاد کیا تھی؟
یہ ایجاد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں شدید گرمی کی لہریں بڑھ رہی ہیں اور بیرونی کام کرنے والے افراد کو گرمی سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔
‘دو ہائیمون باکس’ کو کاروباری اداروں کے لیے فروخت کیا جا رہا ہے اور اسے فیکٹریوں، تعمیراتی مقامات اور دیگر گرم ماحول والی جگہوں پر استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انسانی فریج جاپان گرمی