رات 12 بجے کے بعد پتنگ اڑائی تو۔۔۔ ! آئی جی آپریشنز نے خبردار کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے بسنت کے حوالے سے خبردار کردیا۔
نجی ٹی وی چینل 24 نیوز کے مطابق ڈی آئی جی آپشرینز فیصل کامران کا کہنا ہے کہ لاہور میں آج رات 12 بجے کے بعد پتنگ بازی پر مکمل پابندی ہوگی، انہوں نے واضح کیا کہ مقررہ وقت کے بعد پتنگ اڑانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ڈی آئی جی آپریشنز کا مزید کہنا ہے کہ شہر بھر میں پتنگ بازی کی مانیٹرنگ کے لیے ڈرون کیمروں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اب تک قانون کی خلاف ورزی پر 1700 سے زائد مقدمات بھی درج کیے جا چکے ہیں۔
پنجاب حکومت کی بیوہ خواتین کیلئے سپورٹ کارڈ اسکیم منظور
انہوں نے پولیس کو ہدایت جاری کی کہ ہوائی فائرنگ اور کیمیکل ڈور استعمال کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے۔ شہریوں کی حفاظت کے لیے 10 ہزار سے زائد اہلکار تعینات ہیں۔ موٹر سائیکل سواروں کو سیفٹی گارڈز استعمال کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ لاہور میں بسنت کا تہوار 6 فروری سے 8 فروری 2026 تک منایا جا رہا ہے، پنجاب حکومت نے طویل عرصے بعد مخصوص ضابطہ اخلاق کے تحت بسنت کی اجازت دی ہے جس کے مطابق صرف حکومت سے منظور شدہ ڈور اور پتنگیں ہی استعمال کی جا سکتی ہیں۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔