دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ میں شدت
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
کسٹمز کے اینٹی اسمگلنگ یونٹ کا نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی سکھر کے سرکاری دفتر پر چھاپہ
نان کسٹم پیڈ اور ٹمپرڈ گاڑی قبضے میں لے لی،جبکہ حیران کن طور پر ڈپٹی ڈائریکٹر مقدمے میں نامزد
دو وفاقی اداروں کے درمیان اختیارات کی جنگ کھل کر سامنے آگئی، پاکستان کسٹمز کے اینٹی اسمگلنگ یونٹ نے غیر معمولی کارروائی کرتے ہوئے نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے ) سکھر کے سرکاری دفتر پر چھاپہ مار کر مبینہ طور پر نان کسٹم پیڈ اور ٹمپرڈ گاڑی قبضے میں لے لی، جبکہ حیران کن طور پر اسی ادارے کے ڈپٹی ڈائریکٹر کو مقدمے میں نامزد بھی کردیا گیا۔ڈائریکٹوریٹ آف کسٹمز انفورسمنٹ حیدرآباد کے ماتحت کسٹمز انفورسمنٹ سکھر نے مخبرِ خاص کی اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے این سی سی آئی اے کے دفتر پر ریڈ کی۔ کارروائی کے دوران ایک ایسی گاڑی برآمد کی گئی جسے کسٹمز حکام نے نان کسٹم پیڈ قرار دیتے ہوئے فوری تحویل میں لے لیا۔ کسٹمز حکام کا دعویٰ ہے کہ گاڑی کا فرانزک معائنہ کرایا گیا جہاں اس کا چیسس نمبر جعلی نکلا، جس کے بعد جلد بازی میں مقدمہ الزام نمبر 01؍2026 درج کرلیا گیا۔ حکام کے مطابق مذکورہ گاڑی نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی سکھر کے ڈپٹی ڈائریکٹر فصیح الرحمن کے زیر استعمال تھی، اسی بنیاد پر انہیں بھی نامزد کردیا گیا۔ تاہم اس کارروائی نے کئی قانونی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری افسران کو مخصوص ایس او پیز کے تحت سرکاری ڈیوٹی میں ایسی گاڑیوں کے استعمال کی اجازت حاصل ہوتی ہے تو پھر کسٹمز حکام نے کس قانون کے تحت ایک سرکاری دفتر میں داخل ہوکر گاڑی ضبط کی اور براہ راست ایک گریڈ افسر کے خلاف مقدمہ درج کردیا؟۔یہ معاملہ محض اسمگلنگ کا نہیں بلکہ ادارہ جاتی اختیار کے استعمال اور ممکنہ تجاوز کا بھی بنتا جارہا ہے۔ ادھر حالیہ دنوں میں این سی سی آئی اے سکھر پہلے ہی تنازعات کا مرکز بنا ہوا ہے۔ چند روز قبل نوٹس پر طلب کیے گئے تین افراد کو مبینہ حبسِ بے جا میں رکھنے پر مقامی مجسٹریٹ نے خود دفتر پر چھاپہ مارا تھا اور تین میں سے دو افراد کو بازیاب کرالیا تھا، جس کے بعد ادارے کی کارکردگی اور نگرانی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اتنی بڑی کارروائی کے باوجود دونوں اداروں کی اعلیٰ قیادت خاموش ہے۔ این سی سی آئی اے حکام سے متعدد بار رابطہ کیا گیا جبکہ ڈائریکٹوریٹ آف انفورسمنٹ حیدرآباد کے ایڈیشنل ڈائریکٹر امجد حسین راجپر سے بھی موقف لینے کی کوشش کی گئی، تاہم کسی بھی جانب سے باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ مبصرین کے مطابق یہ واقعہ صرف ایک گاڑی کی ضبطگی نہیں بلکہ وفاقی اداروں کے درمیان اعتماد کے فقدان اور قانونی حدود کے تعین کا امتحان بن چکا ہے، جس کے اثرات آئندہ کارروائیوں اور تحقیقات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: سی سی ا ئی اے دفتر پر
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔