ایران یورینیم افزودگی پر مؤقف پر قائم، امریکا کا دباؤ اور عسکری پیغامات تیز
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات کے دوران سفارتی بیانات کے ساتھ ساتھ طاقت کے مظاہرے بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ایک طرف ایران نے یورینیم افزودگی کو اپنا خودمختار حق قرار دیتے ہوئے مؤقف مزید سخت کر دیا ہے، تو دوسری جانب امریکا نے خطے میں اپنی عسکری موجودگی نمایاں کر کے دباؤ بڑھانے کا اشارہ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی: پاکستان کا مکالمے اور سفارت کاری پر زور، وزیراعظم کا صدر مسعود پزشکیان سے رابطہ
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی ملک ایران کو یہ حکم نہیں دے سکتا کہ وہ کیا رکھے اور کیا نہ رکھے۔ ان کے مطابق یورینیم افزودگی ایران کا خودمختار حق ہے، تاہم بات چیت کے لیے لچک دکھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران افزودگی کی سطح کم کرنے پر غور کر سکتا ہے، لیکن یورینیم کے ذخائر بیرونِ ملک منتقل کرنے کی مخالفت کرتا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات ایک مثبت پیشرفت ہیں۔ ان کے مطابق ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کے تحت اپنے حقوق کے دائرے میں رہتے ہوئے بات چیت کا حامی ہے، مگر دباؤ اور دھمکیوں کی زبان کو مسترد کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کے جوہری پروگرام پر امریکا سے بالواسطہ مذاکرات، عمان کی ثالثی میں مسقط میں اہم پیشرفت
اسی دوران امریکا کی جانب سے عسکری پیغام بھی دیا گیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ، امریکی خصوصی ایلچی اور دیگر اعلیٰ حکام نے طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کا دورہ کیا، جسے ایران کے لیے طاقت کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا کسی معاہدے کے لیے جلدی میں نہیں اور اس کے پاس وقت موجود ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو ایران کو سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب ایرانی فوجی اور عدالتی قیادت نے بھی سخت بیانات دیے ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر امریکا مذاکرات کو وقت حاصل کرنے اور خطے میں فوجی طاقت بڑھانے کے لیے استعمال کر رہا ہے تو ایران اس کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ ایران نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ جنگ نہیں چاہتا، لیکن کسی بھی جارحیت کی صورت میں بھرپور دفاع کیا جائے گا۔
علاقائی اور عالمی سطح پر ایران، امریکا اور اسرائیل کے بیانات نے کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جبکہ مستقبل کے مذاکرات پر غیریقینی صورتحال برقرار ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ایران صدر ٹرمپ مذاکرات یورینیم.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ایران مذاکرات یورینیم
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔