ایران نے یورینیم افزودگی روکنے کا امریکی مطالبہ مسترد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
عمان میں جاری مذاکرات میں ایران نے امریکا کا یورینیم افزودگی روکنے کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق عمان میں ہونے والے امریکی ایران مذاکرات میں واشنگٹن نے مطالبہ کیا تھا کہ تہران اپنی یورینیم افزودگی کی سرگرمیاں روکے خاص طور پر وہ سطح اور طریقہ کار جو اسے جوہری ہتھیاروں کے قریب لے جا سکتا ہے۔
ایران نے اس مطالبے کو واضح طور پر رد کر دیا ہے، اور کہا ہے کہ وہ اپنی افزودگی کی سرگرمیاں جاری رکھے گا اور اس معاملے میں کوئی وقفہ یا معاہدہ نہیں کرے گا۔
ایرانی حکام کے مطابق یورینیم افزودگی ان کا حق ہے اور وہ اسے برقرار رکھنے پر مصر ہیں، چاہے مذاکرات میں کچھ بھی پیش آئے۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ صرف اپنے پر امن جوہری پروگرام کی تشریح کرتا ہے اور اس افزودگی کو امن اور توانائی کے مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔
مذاکرات میں امریکا کا مطالبہ ہے کہ ایران یورینیم افزودگی بند یا بہت محدود کرے تاکہ وہ ممکنہ جوہری ہتھیار بنانے کے راستے سے ہٹ جائے۔ امریکا مذاکرات کو بنیادی طور پر نیوکلیئر پروگرام کے دائرے تک محدود رکھنا چاہتا ہے۔
واضح رہے کہ یہ معاملہ ایران اور امریکا کے درمیان بنیادی اختلافات میں سے ایک بڑا ستون ہے۔ ایران اسے اپنے شہری توانائی اور ٹیکنالوجی کا حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ امریکہ اسے ممکنہ جوہری ہتھیاروں کی تلاش کے خطرے کے طور پر دیکھتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل یورینیم افزودگی مذاکرات میں
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔