امریکا اور ایران کے درمیان مسقط میں ہونے والے جوہری مذاکرات کو دونوں ممالک کے سربراہان نے مثبت قرار دیا تاہم تناؤ اب بھی برقرار  ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہونے والے امریکا ایران مذاکرات ختم ہوگئے۔

گزشتہ روز امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان یہ بات چیت عمان کی ثالثی میں ہوئی تاہم دونوں فریق آمنے سامنے نہیں بیٹھے۔

ایرانی اور امریکی وفود نے علیحدہ علیحدہ عمانی وزیر خارجہ سے ملاقاتیں کیں اور اپنے مطالبات اور تحفظات پیش کیے۔

عمانی وزیر خارجہ نے ایران کے ابتدائی منصوبے کو امریکی وفود کے حوالے کیا اور ایرانی وفود کو امریکی مؤقف سے آگاہ کیا۔

مذاکرات کے فوراً بعد امریکا نے ایران کی تیل برآمدات کو محدود کرنے کے لیے جہاز رانی کے اداروں اور بحری جہازوں پر نئی پابندیوں کا اعلان بھی کیا۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ امریکا کی ایران پر نئی پابندیوں کا مذاکرات سے بالواسطہ یا بلا واسطہ کوئی تعلق ہے یا نہیں۔

البتہ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ نئی پابندیاں ایران کی غیر قانونی تیل اور پیٹروکیمیکل برآمدات کو روکنے کے لیے زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی مہم کا حصہ ہیں۔

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ عمان میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات بہت اچھے رہے ہیں۔

.

@POTUS: "We had very, very good talks today having to do with Russia-Ukraine... We likewise had very good talks on Iran. Iran looks like it wants to make a deal very badly... We broke 50,000 on the Dow. Most people thought that was not possible to do so quickly." pic.twitter.com/F3htRQPre7

— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) February 7, 2026

صدر ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ ملاقات کا دوسرا دور آئندہ ہفتے سے شروع ہوگا۔

امریکی صدر نے جہاں مذاکرات پر اطمینان کا اظہار کیا وہیں خبردار بھی کیا کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو نتائج بہت سخت ہوں گے۔

دوسری جانب ایران نے بھی مسقط میں ہونے والے مذاکرات کے دوران مثبت ماحول کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ مزید مذاکرات پر اتفاق ہوگیا ہے۔

یہ مذاکرات ایسے وقت ہوئے جب خطے میں طیارہ بردار جہاز کی قیادت میں ایک امریکی بحری بیڑا چوکس و ہوشیار کھڑا اور صدر ٹرمپ کے اشارے کا منتظر ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس جون میں امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ کارروائی میں ایران کے جوہری تنصیبات، ایٹمی سائنسدانوں اور پاسداران انقلاب کے کمانڈرز کو نشانہ بنایا تھا۔

ایران پر اسرائیل اور امریکا کے ان ہلاکت خیز حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ روز عمان میں ہونے والی یہ پہلی بات چیت ہے۔

 

 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: میں ہونے والے اور ایران کے درمیان ایران کے

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔

ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔

ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا