ٹرمپ کی مذاکرات کو ’ویری گڈ‘ قرار دینے کے بعد ایرانی پیٹرول پر نئی پابندیاں
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
امریکا اور ایران کے درمیان مسقط میں ہونے والے جوہری مذاکرات کو دونوں ممالک کے سربراہان نے مثبت قرار دیا تاہم تناؤ اب بھی برقرار ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہونے والے امریکا ایران مذاکرات ختم ہوگئے۔
گزشتہ روز امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان یہ بات چیت عمان کی ثالثی میں ہوئی تاہم دونوں فریق آمنے سامنے نہیں بیٹھے۔
ایرانی اور امریکی وفود نے علیحدہ علیحدہ عمانی وزیر خارجہ سے ملاقاتیں کیں اور اپنے مطالبات اور تحفظات پیش کیے۔
عمانی وزیر خارجہ نے ایران کے ابتدائی منصوبے کو امریکی وفود کے حوالے کیا اور ایرانی وفود کو امریکی مؤقف سے آگاہ کیا۔
مذاکرات کے فوراً بعد امریکا نے ایران کی تیل برآمدات کو محدود کرنے کے لیے جہاز رانی کے اداروں اور بحری جہازوں پر نئی پابندیوں کا اعلان بھی کیا۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ امریکا کی ایران پر نئی پابندیوں کا مذاکرات سے بالواسطہ یا بلا واسطہ کوئی تعلق ہے یا نہیں۔
البتہ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ نئی پابندیاں ایران کی غیر قانونی تیل اور پیٹروکیمیکل برآمدات کو روکنے کے لیے زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی مہم کا حصہ ہیں۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ عمان میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات بہت اچھے رہے ہیں۔
.
صدر ٹرمپ نے یہ بھی بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ ملاقات کا دوسرا دور آئندہ ہفتے سے شروع ہوگا۔
امریکی صدر نے جہاں مذاکرات پر اطمینان کا اظہار کیا وہیں خبردار بھی کیا کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو نتائج بہت سخت ہوں گے۔
دوسری جانب ایران نے بھی مسقط میں ہونے والے مذاکرات کے دوران مثبت ماحول کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے ساتھ مزید مذاکرات پر اتفاق ہوگیا ہے۔
یہ مذاکرات ایسے وقت ہوئے جب خطے میں طیارہ بردار جہاز کی قیادت میں ایک امریکی بحری بیڑا چوکس و ہوشیار کھڑا اور صدر ٹرمپ کے اشارے کا منتظر ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس جون میں امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ کارروائی میں ایران کے جوہری تنصیبات، ایٹمی سائنسدانوں اور پاسداران انقلاب کے کمانڈرز کو نشانہ بنایا تھا۔
ایران پر اسرائیل اور امریکا کے ان ہلاکت خیز حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ روز عمان میں ہونے والی یہ پہلی بات چیت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں ہونے والے اور ایران کے درمیان ایران کے
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔