ایران نے امریکا کا یورینیم افزودگی روکنے کا مطالبہ مسترد کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
عمان میں جاری مذاکرات میں ایران نے امریکا کا یورینیم افزودگی روکنے کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق عمان میں ہونے والے امریکی ایران مذاکرات میں واشنگٹن نے مطالبہ کیا تھا کہ تہران اپنی یورینیم افزودگی کی سرگرمیاں روکے خاص طور پر وہ سطح اور طریقہ کار جو اسے جوہری ہتھیاروں کے قریب لے جا سکتا ہے۔
ایران نے اس مطالبے کو واضح طور پر رد کر دیا ہے، اور کہا ہے کہ وہ اپنی افزودگی کی سرگرمیاں جاری رکھے گا اور اس معاملے میں کوئی وقفہ یا معاہدہ نہیں کرے گا۔
ایرانی حکام کے مطابق یورینیم افزودگی ان کا حق ہے اور وہ اسے برقرار رکھنے پر مصر ہیں، چاہے مذاکرات میں کچھ بھی پیش آئے۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ صرف اپنے پر امن جوہری پروگرام کی تشریح کرتا ہے اور اس افزودگی کو امن اور توانائی کے مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔
مذاکرات میں امریکا کا مطالبہ ہے کہ ایران یورینیم افزودگی بند یا بہت محدود کرے تاکہ وہ ممکنہ جوہری ہتھیار بنانے کے راستے سے ہٹ جائے۔ امریکا مذاکرات کو بنیادی طور پر نیوکلیئر پروگرام کے دائرے تک محدود رکھنا چاہتا ہے۔
واضح رہے کہ یہ معاملہ ایران اور امریکہ کے درمیان بنیادی اختلافات میں سے ایک بڑا ستون ہے۔ ایران اسے اپنے شہری توانائی اور ٹیکنالوجی کا حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ امریکہ اسے ممکنہ جوہری ہتھیاروں کی تلاش کے خطرے کے طور پر دیکھتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: یورینیم افزودگی مذاکرات میں
پڑھیں:
خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
اسحاق ڈار---فائل فوٹونائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔