ایران کا جوہری افزودگی پر موقف: یہ ہمارا ناقابلِ تنسیخ حق ہے، عباس عراقچی
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2026 GMT
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جوہری افزودگی ایران کا ناقابلِ تنسیخ حق ہے اور یہ عمل جاری رہنا چاہیے۔
عرب ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں عباس عراقچی نے بتایا کہ مسقط میں امریکا کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کے دوران امریکی وفد سے مصافحہ بھی ہوا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو ایران خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا، تاہم امریکی سرزمین پر جوابی حملے کا امکان نہیں ہے۔
عراقچی نے کہا کہ ایران کی جوہری افزودگی اس کا بنیادی حق ہے اور بمباری سے بھی اس کی جوہری صلاحیتوں کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران افزودگی کے حوالے سے ایک یقین دہانی کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار ہے، لیکن ایران کا میزائل پروگرام کسی بھی مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گا کیونکہ یہ قومی دفاع کا معاملہ ہے۔
عباس عراقچی نے یہ بھی کہا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کے اگلے دور کی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی، تاہم دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ بات چیت جلد شروع ہونی چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: عباس عراقچی عراقچی نے
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔