امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات پر امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کے پاس کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ’کافی وقت‘ موجود ہے اور ایران سنجیدگی سے ڈیل کرنا چاہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران کشیدگی: سعودی عرب، ترکی اور پاکستان نے واشنگٹن کو کیا پیغام دیا؟

صدر ٹرمپ نے یہ بات ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہی، جب وہ ہفتہ وار تعطیلات کے لیے فلوریڈا میں اپنے مارا لاگو ریزورٹ جا رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمان میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات کے دوران ایران سے ’بہت اچھی بات چیت‘ ہوئی ہے اور فریقین کے درمیان اگلے ہفتے دوبارہ ملاقات متوقع ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی مسقط میں ہونے والے مذاکرات کو ’اچھی شروعات‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق ہو گیا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران صرف اپنے جوہری پروگرام پر ہی بات کرے گا اور کسی دباؤ یا دھمکی کے ماحول میں مذاکرات ممکن نہیں۔

ذرائع کے مطابق ایران نے مذاکرات میں یورینیم افزودگی کے اپنے حق پر زور دیا، البتہ افزودگی کی سطح اور معیار پر بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔ اس کے بدلے ایران نے فوری اور مؤثر پابندیوں کے خاتمے، خصوصاً بینکاری اور تیل کے شعبے میں ریلیف کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی میں اضافہ، پاکستان کا ضبط، ذمہ داری اور مذاکرات پر زور

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ واشنگٹن چاہتا ہے کہ مذاکرات کا دائرہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام، خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت اور انسانی حقوق کے معاملات تک بھی بڑھایا جائے، تاہم ایرانی حکام ان نکات کو بات چیت کا حصہ بنانے سے انکار کر چکے ہیں۔

مذاکرات کے ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے ایران پر دباؤ بڑھاتے ہوئے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے تحت ایسے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف عائد کر دیا ہے جو ایران سے بالواسطہ یا بلاواسطہ تجارت کرتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اس اقدام کا مقصد ایران کی تیل، دھاتوں اور پیٹروکیمیکل آمدن کو محدود کرنا ہے۔

علاقائی اور عالمی طاقتیں خبردار کر رہی ہیں کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک نئی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے، جس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ تک پھیلنے کا خدشہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایران کے بات چیت کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا