ماضی میں جو ہوچکا ہے اسے بدلا نہیں جاسکتا، رانا ثناء اللہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
فائل فوٹو
وزیراعظم کے مشیر سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ماضی میں جو ہوچکا ہے اسے بدلا نہیں جاسکتا، جب تک یہ نشاندہی نہیں ہوگی کہ بلوچستان کا بحران ہے کیا، مسئلے کا پتا نہیں چلے گا۔
لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اس وقت بلوچستان کے 2 بحران ہیں، ہم غلطی کر رہے ہیں کہ دونوں بحرانوں کو ایک ہی طرح حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بچوں اور فیملیوں کو شناختی کارڈ دیکھ کر گولیاں ماری جاتی ہیں، کیا کبھی آپ نے سنا ہے کہ کسی نے کہا کہ یہ بلوچستان کے لوگ کراتے ہیں، ہم کہتے ہیں کہ یہ دہشت گرد ہیں، جو پاکستان میں امن نہیں چاہتے۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ انسانی بنیادوں پر دی جانے والی امداد طالبان رجیم کی مضبوطی پر خرچ ہو رہی ہے
انہوں نے کہا کہ فیصل آباد میں بلوچستان کے لوگ اربوں روپے کا کاروبار کرتے ہیں، کوئی ایک مثال دے دیں کہ کسی نے پنجاب میں کسی بلوچ کو برا بھلا کہا ہو۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بے گناہ لوگوں کو شہید کرنے والوں کا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں، کیا جعفر ایکسپریس کے واقعے کے روز بھارتی میڈیا پر جشن کا سماں نہیں تھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ امن کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، بلوچستان کا امن اور ترقی ترجیح ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: رانا ثناء اللہ نے کہا نے کہا کہ
پڑھیں:
وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق ذرائع کاکہنا ہے کہ وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہوسکا، وفاقی بجٹ 8یا 12جون کو پیش کئے جانے کا امکان ہے۔
قومی اقتصادی کونسل کا 3جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی کردیا گیا، جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیاگیا۔
یادرہے کہ اس سے قبل خیال کیا جارہا تھا کہ وفاقی بجٹ5جون کو پیش کیا جائے گا۔
مزید :