Jang News:
2026-07-23@23:33:15 GMT

ماضی میں جو ہوچکا ہے اسے بدلا نہیں جاسکتا، رانا ثناء اللہ

اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT

ماضی میں جو ہوچکا ہے اسے بدلا نہیں جاسکتا، رانا ثناء اللہ

فائل فوٹو

وزیراعظم کے مشیر سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ماضی میں جو ہوچکا ہے اسے بدلا نہیں جاسکتا، جب تک یہ نشاندہی نہیں ہوگی کہ بلوچستان کا بحران ہے کیا، مسئلے کا پتا نہیں چلے گا۔

 لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اس وقت بلوچستان کے 2 بحران ہیں، ہم غلطی کر رہے ہیں کہ دونوں بحرانوں کو ایک ہی طرح حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بچوں اور فیملیوں کو شناختی کارڈ دیکھ کر گولیاں ماری جاتی ہیں، کیا کبھی آپ نے سنا ہے کہ کسی نے کہا کہ یہ بلوچستان کے لوگ کراتے ہیں، ہم کہتے ہیں کہ یہ دہشت گرد ہیں، جو پاکستان میں امن نہیں چاہتے۔

افغانستان میں سرگرم 20 سے زیادہ دہشت گرد تنظیمیں دنیا کیلئے خطرہ ہیں: بلال اظہر کیانی

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ انسانی بنیادوں پر دی جانے والی امداد طالبان رجیم کی مضبوطی پر خرچ ہو رہی ہے

انہوں نے کہا کہ فیصل آباد میں بلوچستان کے لوگ اربوں روپے کا کاروبار کرتے ہیں، کوئی ایک مثال دے دیں کہ کسی نے پنجاب میں کسی بلوچ کو برا بھلا کہا ہو۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بے گناہ لوگوں کو شہید کرنے والوں کا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں، کیا جعفر ایکسپریس کے واقعے کے روز بھارتی میڈیا پر جشن کا سماں نہیں تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ امن کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، بلوچستان کا امن اور ترقی ترجیح ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: رانا ثناء اللہ نے کہا نے کہا کہ

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف