سونے کی قیمتوں میں ایک دن کے وقفے سے آج پھر بڑا اضافہ رکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
کراچی:
سونے کی عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمتوں میں صرف ایک ہی دن کے وقفے سے آج پھر بڑا اضافہ ریکارڈ ہوگیا۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں آج ہفتے کے روز فی اونس سونے کی قیمت میں 117ڈالر کا اضافہ ریکارڈ ہوا، جس کے بعد سونے کی نئی عالمی قیمت 4ہزار 967ڈالر فی اونس کی سطح پر آگئی ۔
دوسری جانب مقامی صرافہ بازاروں میں کاروباری ہفتے کے آخری روز 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت بھی 11ہزار 700روپے کے اضافے سے 5لاکھ 19ہزار 462روپے کی سطح پر آگئی جب کہ فی 10 گرام سونے کی قیمت 10 ہزار 030روپے بڑھ کر 4لاکھ 45ہزار 354روپے کی سطح پر آگئی۔
ساتھ ہی ملک میں فی تولہ چاندی کی قیمت 444روپے کے اضافے سے 8ہزار 269روپے کی سطح پر آگئی اور فی 10 گرام چاندی کی قیمت 381روپے کے اضافے سے 7ہزار 089روپے کی سطح پر آگئی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل کی سطح پر آگئی سونے کی قیمت
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔