اسلام آباد میں جمعہ 6 فروری کو امام بارگاہ و مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں ہونے والے خودکش دھماکے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سیکیورٹی اور انٹیلیجنس اداروں نے پشاور اور نوشہرہ میں مشترکہ چھاپے مار کر خودکش حملہ آور کے چار سہولت کار گرفتار کر لیے ہیں۔ذرائع کے مطابق گرفتار کیے گئے سہولت کاروں اور ماسٹر مائنڈ سے حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور ذہن سازی کے اہم شواہد حاصل کیے گئے ہیں۔ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ خودکش حملہ آور افغانستان میں داعش کے زیر تربیت تھا اور افغان طالبان کی سرپرستی میں خطے کے امن کیلئے خطرہ بننے والا منصوبہ تیار کیا گیا تھا۔ذرائع نے بتایا کہ حملہ آور کا نام یاسر ہے اور وہ پشاور کا رہائشی ہے۔ حملے سے قبل اس نے مسجد کی ریکی کی تھی اور چار ماہ تک افغانستان میں رہ کر واپس آیا۔ حملے کے دن خودکش بمبار نے نوشہرہ سے اسلام آباد پہنچنے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کی اور قریبی ہوٹل میں مختصر قیام کے بعد پیدل چل کر مسجد پہنچا۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق حملہ آور نے مسجد میں داخل ہونے سے پہلے فائرنگ کی.

راستے میں دو اور ہال کے اندر چھ گولیاں چلائیں اور پھر خودکش جیکٹ دھماکے سے خود کو اڑا لیا۔ دھماکے میں تقریباً 4 سے 6 کلو بارودی مواد استعمال ہوا جس میں بال بیئرنگ کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ تمام گولیاں اور شواہد جائے وقوعہ سے برآمد کر لیے گئے ہیں۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشنز کے دوران وطن کا ایک محافظ شہید اور تین اہلکار زخمی ہوئے۔ نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد سے شواہد کی تصدیق کی گئی اور دہشت گردوں کے خلاف مزید انٹیلیجنس بیسڈ کارروائیاں جاری ہیں۔

واضح رہے کہ اس حملے میں 33 افراد شہید اور 150 سے زائد زخمی ہوئے تھے جس نے ملک میں سنسنی اور تشویش پھیلائی تھی۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: اسلام آباد حملہ آور

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا