جنوبی کوریا کے کرپٹو ایکسچینج کی غلطی، صارفین قلیل مدت کے لیے اربوں ڈالر کے بٹ کوائن کے مالک بن گئے
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
جنوبی کوریا کے کرپٹو کرنسی ایکسچینج بٹ ہمب نے ایک تکنیکی غلطی کے باعث اپنے صارفین کو 40 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے بٹ کوائن دے دیے، جس سے وہ قلیل مدت کے لیے کروڑ پتی بن گئے۔
اصل میں کمپنی اپنے صارفین کو دو ہزار وون (تقریباً 1.37 امریکی ڈالر) کا چھوٹا سا نقد انعام دینے کا ارادہ رکھتی تھی، لیکن جمعہ کے روز ایک ٹیکنیکل مسئلے کے سبب صارفین کو دو ہزار کے بجائے دو، دو ہزار بٹ کوائنز ٹرانسفر کر دیے گئے۔
بٹ ہمب نے اپنی غلطی پر معذرت کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں جلد ہی اس کا احساس ہو گیا اور تقریباً تمام کرپٹو ٹوکن واپس حاصل کر لیے گئے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ 695 متاثرہ صارفین کے اکاؤنٹس میں ٹریڈنگ اور رقم نکالنے کی صلاحیت 35 منٹ کے اندر محدود کر دی گئی تھی، اور 620,000 بٹ کوائنز میں سے 99.
کمپنی نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ واقعہ ہیکنگ یا سکیورٹی کے مسئلے کی وجہ سے نہیں ہوا، اور صارفین کے اثاثوں یا سسٹم کی حفاظت متاثر نہیں ہوئی۔
اس واقعے کے بعد جنوبی کوریا کے مالیاتی ریگولیٹر نے ہنگامی اجلاس بلایا اور کہا کہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی صورت میں باقاعدہ تحقیقات کی جائیں گی، جبکہ بٹ ہمب نے ریگولیٹرز کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کا اعلان کیا۔
بٹ ہمب کے سی ای او لی جے وون نے کہا: “ہم اس حادثے کو سبق کے طور پر لیں گے اور صارفین کے اعتماد اور ذہنی سکون کو ترجیح دیں گے۔” کمپنی نے اس موقع پر تمام موجودہ صارفین کو 20,000 وون (تقریباً 13.66 امریکی ڈالر) دینے، ٹریڈنگ فیس معاف کرنے اور دیگر اقدامات کرنے کا بھی اعلان کیا۔
مزید برآں، بٹ ہمب نے اعلان کیا کہ وہ اپنے ویریفکیشن سسٹم میں بہتری لائے گی اور غیر معمولی لین دین کا پتا لگانے کے لیے مصنوعی ذہانت متعارف کرائے گی۔
اس واقعے نے ایک بار پھر مالیاتی نظام میں سخت ریگولیٹری کنٹرول کی ضرورت پر بحث کو جنم دیا ہے۔ یاد رہے کہ اپریل 2024 میں امریکی بینک سٹی گروپ نے بھی ایک ٹرانزیکشن کی غلطی کے باعث 280 ڈالر کی بجائے 810 کھرب ڈالر کسی صارف کے اکاؤنٹ میں جمع کر دیے تھے، تاہم چند گھنٹوں کے اندر یہ رقم واپس کر دی گئی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: صارفین کو
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔