جو اسلام کو مٹانے نکلے وہ خود مٹ گئے، مولانا ارشد مدنی
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
جمعیت علماء ہند کے صدر نے کہا کہ فرقہ وارانہ عناصر کی جانب سے ملک کو ہندو راشٹر بنانے کی کوئی بھی سازش کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اسلام ٹائمز۔ جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے ایک بار پھر ہندو راشٹر کا مطالبہ کرنے والے عناصر کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے سخت بیان دیا ہے۔ مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ کچھ فرقہ وارانہ طاقتیں ہندو راشٹر بنانے کا خواب دیکھ رہی ہیں، لیکن انہیں پڑوسی ملک نیپال کی تاریخ سے سبق لینا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ نیپال نے بھی کبھی ہندو راشٹر کا تصور اپنایا تھا، مگر اس کے نتائج آج سب کے سامنے ہیں۔ جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے لکھا کہ نفرت کے سوداگر اور ہندو راشٹر کا خواب دیکھنے والوں کو نیپال سے سبق لینا چاہیئے، وہ دن بھی ضرور آئے گا جب ظالموں کے گلے میں زنجیریں ہوں گی اور ملک ایک بار پھر محبت، بھائی چارے اور انصاف کے سائے میں ترقی کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ فرقہ وارانہ طاقتیں اور کچھ تنظیمیں ہندو راشٹر بنانے کا خواب دیکھ رہی ہیں، حالانکہ انہیں اپنے پڑوسی ملک نیپال کی تاریخ سے سبق لینا چاہیئے۔ حالیہ برسوں میں نیپال میں بھی اسی طرح کی فکر رکھنے والوں نے ہندو راشٹر قائم کیا تھا، لیکن بالآخر وہ نظام اوندھے منھ گر گیا اور وہاں جمہوری آئین کے تحت ایک نئی طرزِ حکومت وجود میں آئی۔ اس حقیقت سے واضح ہوتا ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں کسی بھی ملک کی حقیقی ترقی، استحکام اور عوامی فلاح اسی وقت ممکن ہے جب وہاں جمہوری نظام اور آئینی اقدار کا تحفظ ہو، نہ کہ کسی ایک مذہب یا نظریے کو قوم پر مسلط کر کے۔
مولانا ارشد مدنی نے اپنے بیان میں کہا کہ فرقہ وارانہ عناصر کی جانب سے ملک کو ہندو راشٹر بنانے کی کوئی بھی سازش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ سیکولرازم اور بھارتی آئین کے تحفظ کے لئے جمعیت علماء ہند آخری سانس تک جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ جو قوم اپنی شناخت، ثقافت اور مذہب کے ساتھ جینا چاہتی ہے، اسے قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ فرقہ وارانہ طاقتیں اسلام اور مسلمانوں دونوں کو مٹانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، لیکن شاید انہیں یہ معلوم نہیں کہ اسلام کا یہ چراغ کبھی بجھ نہیں سکتا۔ جنہوں نے اسے بجھانے کی کوشش کی، وہ خود مٹ گئے۔ ہم ایک زندہ قوم ہیں اور زندہ قومیں مایوسی کے بجائے اپنی بصیرت، دوراندیشی اور حکمتِ عملی کے ذریعے کامیابی کی نئی داستان رقم کرتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ فرقہ وارانہ جمعیت علماء ہند نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔