ان کا بیانیہ دفن ہوچکا، 8فروری کی ہڑتال پر کسی نے کان نہیں دھرا، امیر مقام WhatsAppFacebookTwitter 0 8 February, 2026 سب نیوز

پشاور (آئی پی ایس )وفاقی وزیر امور کشمیر امیر مقام نے کہا ہے کہ معرکہ حق میں کامیابی نے لوگوں کا ذہن بدل دیا، فیلڈ مارشل اور وزیراعظم کے دلیرانہ فیصلوں نے دشمن کو شکست دی۔

پشاور میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے امیر مقام کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز ملک کی خاطر قربانیاں دے رہی ہیں، خیبر پختونخوا کے عوام نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے لوگ امن اور روزگار چاہتے ہیں، ان لوگوں کا بیانیہ دفن ہوچکا ہے، 8 فروری کی ہڑتال پر کسی نے کان نہیں دھرا۔ وفاقی وزیر امیر مقام کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف سب کو ایک بات کرنا ہوگی اور ایک پیج پر آنا ہوگا، اپنے اداروں کو بدنام کرنے سے ملک کی خدمت نہیں ہوتی۔انہوں نے کہا کہ قدرتی آفات ہوں یا دہشت گردی ختم کرنا ہو، ہم فوج سے مدد لیتے ہیں، ہماری قوم والا جذبہ بھارت کہاں سے لا سکتا ہے؟ ۔

امیر مقام نے کہا کہ پشاور کے لوگوں نے آج جعلی بیانیہ کے جنازہ نکال دیا ہے، عوام کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ عوام کی خوشحالی نواز شریف اور شہباز شریف کا ایجنڈا ہے، ایک بار پھر پشاور کو مسلم لیگ کا گڑھ بنائیں گے، خیبر پختونخوا ملک کا اہم حصہ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراٹھارویں ترمیم کوئی آسمانی صحیفہ نہیں، اتفاق رائے سے تبدیلی ممکن ہے، رانا ثنااللہ اٹھارویں ترمیم کوئی آسمانی صحیفہ نہیں، اتفاق رائے سے تبدیلی ممکن ہے، رانا ثنااللہ بات چیت کیلئے تیار، افغانستان دہشتگردی کیخلاف اقدامات کرے، بلال اظہر کیانی پاکستان کو مستقل دشمن بنا کر رکھنے کی بھارتی پالیسی ناکام ہو چکی ،ششی تھرورکا دو ٹوک اعتراف بھارت پورے خطے اور عالمی امن کیلئے خطرہ بن چکا ہے، آصف زرداری غزہ میں مستقل جنگ بندی اور فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر،اقوام متحدہ کو مزید موثر بنانے کیلئے اصلاحات ضروری ہیں، عاصم افتخار لوگوں نے نفرت، انتشار اور تقسیم کی سیاست کو رد کر دیا،عطا اللہ تارڑ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: نے کہا کہ

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کاکل کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف