کیوبا میں امریکی ناکہ بندی: زندگی بجلی کی کمی اور خوراک کی قلت سے متاثر
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
امریکی پابندیوں کی وجہ سے کیوبا میں توانائی کا شدید بحران پیدا ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں حکومت کو دن میں کئی گھنٹے بجلی بند کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ کمیونسٹ حکومت کے زیرِ انتظام اس جزیرے پر تقریباً 11 ملین لوگ زندگی گزار رہے ہیں اور اس بحران سے ان کی روزمرہ زندگی سخت متاثر ہو رہی ہے۔
بس اسٹاپ خالی ہیں، گھروں میں کھانا پکانے کے لیے لوگ لکڑی اور کوئلہ استعمال کر رہے ہیں، اور امریکی پابندیوں کے باعث معاشی حالات مسلسل خراب ہو رہے ہیں۔ صدر میگوئل ڈیاز-کینیل نے سخت ہنگامی اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے ایندھن کی محدود فراہمی، دفتر کے اوقات میں کمی اور دیگر پابندیاں عائد کی ہیں تاکہ ضروری خدمات کو جاری رکھا جا سکے۔
کیوبا کے نائب وزیر اعظم آسکر پیریز اولیوا نے بتایا کہ ریاستی کمپنیاں چار روزہ ورک ویک میں منتقل ہو جائیں گی، صوبوں کے درمیان نقل و حمل محدود ہوگی، سیاحتی سہولیات بند رہیں گی، اور اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں حاضری کی ضروریات کم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ایندھن کو صحت، خوراک کی پیداوار اور دفاعی شعبے میں ترجیح دی جائے گی اور شمسی توانائی جیسے قابل تجدید ذرائع پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔
امریکی پالیسی کی وجہ سے کیوبا کی معیشت شدید دباؤ میں ہے۔ واشنگٹن نے وینزویلا کی حکومت پر دباؤ ڈالا ہے تاکہ وہ کیوبا کو تیل فراہم نہ کرے، جس کے باعث جزیرے میں تیل کے ذخائر ریکارڈ کم ہو گئے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے کیوبا کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا اور کسی بھی ملک پر پابندیاں عائد کیں جو جزیرے کو فروخت یا تیل مہیا کرے۔
کیوبا نے ان الزامات کو مسترد کیا اور بات چیت کا مطالبہ کیا ہے، لیکن امریکی اہداف غیر واضح ہیں اور متعدد عہدیدار یہ واضح کر چکے ہیں کہ وہ حکومت کی تبدیلی دیکھنا چاہتے ہیں۔
کیوبا کے لیے دستیاب ایندھن تقریباً 15 سے 20 دن کے لیے کافی ہے، اور ملک کو روزانہ تقریباً 100,000 بیرل خام تیل کی ضرورت ہے۔ اس بحران کے باعث لوگ روزانہ کی ضروریات کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ نے بھی اس صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ترجمان اسٹیفن ڈوجرک اور سینئر عہدیدار فرانسسکو پِچون نے کہا کہ کیوبا میں انسانی ہمدردی کا بحران بڑھ رہا ہے اور فوری اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ معیشت اور عوام کی زندگی متاثر نہ ہو۔
حالیہ برسوں میں جاری پابندیاں اور ناکہ بندی کی وجہ سے کیوبا کی اکثریت بجلی کی بندش اور محدود وسائل سے متاثر ہے، اور ملک کو برقرار رکھنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔
مزید :