سانحہ ترلائی، گلگت بلتستان میں سوگ، احتجاج، شہداء کا تاریخی استقبال، خصوصی رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
بلتستان حالت سوگ میں ہے، ہر آنکھ اشکبار ہے سانحہ ترلائی کے شہداء سکردو پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ ہفتہ کے روز سانحے میں شہید ہونے والے پولیس انسپکٹر شہید بہادر علی کا جسد خاکی سکردو پہنچا تو جگہ جگہ ہزاروں لوگ شہید کے استقبال کیلئے موجود تھے۔ مرکزی جامع مسجد میں نماز جنازہ ادا کی گئی جہاں پچاس ہزار سے قریب لوگ شریک ہوئے اور رات گئے آبائی قبرستان میں شہید کو سپرد خاک کر دیا گیا۔ آج بھی کئی شہداء کے جسد خاکی سکردو پہنچے۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: لیاقت علی انجم
بلتستان حالت سوگ میں ہے، ہر آنکھ اشکبار ہے سانحہ ترلائی کے شہداء سکردو پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ ہفتہ کے روز سانحے میں شہید ہونے والے پولیس انسپکٹر شہید بہادر علی کا جسد خاکی سکردو پہنچا تو جگہ جگہ ہزاروں لوگ شہید کے استقبال کیلئے موجود تھے۔ مرکزی جامع مسجد میں نماز جنازہ ادا کی گئی جہاں پچاس ہزار سے قریب لوگ شریک ہوئے اور رات گئے آبائی قبرستان میں شہید کو سپرد خاک کر دیا گیا۔ آج بھی کئی شہداء کے جسد خاکی سکردو پہنچے۔ اس سے پہلے گزشتہ روز گلگت اور سکردو میں سانحہ ترلائی کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا اور ریلی نکالی گئی۔ گلگت میں نماز ظہرین کے بعد قائد ملت جعفریہ گلگت بلتستان سید راحت حسین الحسینی کی قیادت میں مرکزی جامع مسجد سے ریلی نکالی گئی جو شہید ضمیر عباس چوک پر جلسے کی شکل اختیار کر گئی۔ اس موقع پر مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مساجد اور امام بارگاہوں کی حفاظت ہمیں خود کرنا ہوگی کیونکہ ریاست اور اداروں پر اعتماد ختم ہو چکا ہے اور ہمیں ریاست پر کوئی اعتبار نہیں ہے۔ دوسری جانب سکردو میں بھی بھی ریلی نکالی گئی جہاں ہزاروں لوگ ریلی میں شریک ہوئے۔ یادگار شہداء سکردو پر جلسے میں عوام کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ سانحہ ترلائی کیخلاف ہفتہ کے روز سکردو میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔ سکردو میں مارکیٹ اور بازار مکمل بند رہے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جسد خاکی سکردو سانحہ ترلائی میں شہید
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔