data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود نے اسرائیل کی جانب سے صومالیہ میں ’مداخلت‘ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے علیحدگی پسند خطے سومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے فیصلے سے عدم استحکام میں اضافہ ہوا ہے۔

غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق عرب میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صومالی صدر حسن شیخ محمود نے کہا کہ صومالیہ کبھی بھی اس بات کی اجازت نہیں دے گا کہ سومالی لینڈ میں اسرائیلی فوجی اڈا قائم کیا جائے اور ایسی کسی بھی کوشش کا مقابلہ کیا جائے گا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ مجوزہ اسرائیلی اڈا پڑوسی ممالک پر حملوں کے لیے بھی استعمال ہوسکتا ہے۔

صومالی صدر حسن شیخ محمود نے اسرائیل کی سفارتی حکمت عملی کو غیر ذمہ دارانہ، غلط اور بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی اقدام قرار دیا۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صومالی لینڈ میں اسرائیلی فوجی موجودگی کے خلاف بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنی استطاعت کے مطابق لڑیں گے۔ ظاہر ہے ہم اپنا دفاع کریں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم کسی بھی اسرائیلی فورس کا سامنا کریں گے جو یہاں آنے کی کوشش کرے گی، کیونکہ ہم اس کے خلاف ہیں اور ہم ہرگز اس کی اجازت نہیں دیں گے‘۔

صومالی صدر کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب دسمبر میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے فیصلے پر خطے میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

سومالی لینڈ صومالیہ کا علیحدگی پسند علاقہ ہے، یہ خطہ دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک پر واقع ہے اور قرن افریقا میں واقع ہونے کی وجہ سے اس کی اسٹریٹجک اہمیت بہت زیادہ ہے۔

اسرائیل کا یہ اقدام اسے دنیا کا پہلا ملک بناتا ہے جس نے سومالی لینڈ کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا۔

یہ اسرائیلی فیصلہ اس رپورٹ کے چند ماہ بعد سامنے آیا تھا جس میں خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے بتایا تھا کہ اسرائیلی حکام نے صومالی لینڈ کے بعض حکام سے رابطہ کیا تھا تاکہ غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے دوران فلسطینیوں کو زبردستی بے دخل کرنے کے لیے اس علاقے کے استعمال پر بات چیت کی جا سکے۔

اگرچہ اسرائیل اور صومالی لینڈ دونوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے تاہم جنوری میں صومالی لینڈ کی وزارت خارجہ و بین الاقوامی تعاون کے ایک اہلکار نے اسرائیل کے چینل 12 کو بتایا تھا کہ اسرائیلی فوجی اڈے کا قیام ’زیر غور ہے اور اس پر بات ہو رہی ہے‘۔

ویب ڈیسک مرزا ندیم بیگ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسرائیلی فوجی سومالی لینڈ صومالی لینڈ

پڑھیں:

گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟

گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔

گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔

ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔

خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!

گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔

کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔

جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔

مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟

گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔

منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟

کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان