جعلی مینڈیٹ کی حامل حکومت کا حصہ نہیں بنیں گے، مولانا فضل الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
جعلی مینڈیٹ کی حامل حکومت کا حصہ نہیں بنیں گے، مولانا فضل الرحمان WhatsAppFacebookTwitter 0 8 February, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس )جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جے یو آئی اس جعلی مینڈیٹ کی حامل حکومت میں حصہ نہیں لے گی اور اپوزیشن کے طور پر اپنا کردار جاری رکھے گی۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ایک عوامی اجتماع سے خطاب میں کہا کہ ملک میں الیکشن کمیشن کٹھ پتلی بن چکا ہے اور انتخابات کے نتائج تیار کرنے کی بجائے باہر سے آنے والے نتائج پر عمل کیا جا رہا ہے، 2 سال قبل ہونے والے عام انتخابات کے نتائج کو مسترد کیا گیا تھا، مگر آج اسی جعلی مینڈیٹ کے سہارے ملک پر حکمرانی کی جا رہی ہے۔مولانا فضل الرحمان نے خطاب میں واضح کیا کہ جے یو آئی اقتدار کی خواہش کے لیے نہیں بلکہ آئین اور قانون کی پاسداری کے لیے کام کر رہی ہے، موجودہ حکومت کو عوامی طاقت کے بجائے جوڑ توڑ کے ذریعے وجود میں لائی گئی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حقیقی اکثریت عوام کے ووٹ سے آنی چاہیے، نہ کہ مصنوعی طریقے سے۔
انہوں نے کہا کہ ایک حلقے کے نتائج بھی الیکشن کمیشن نے خود تیار نہیں کیے اور ایسا کٹھ پتلی کمیشن دنیا میں کہیں اور نہیں ملتا۔ مولانا فضل الرحمان نے نئے شامل ہونے والے کارکنان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام قافلہ حریت کو مزید تقویت دے گا اور ملک میں سیاسی شعور و جمہوری بیداری کو فروغ دے گا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جے یو آئی عوامی مفاد اور آئین کی بالادستی کے لیے کام کرے گی اور عوام کو درست رہنمائی فراہم کرے گی تاکہ ملک میں شفافیت اور عدلیہ کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے، انہوں نے واضح کیا کہ اقتدار میں آنا مقصد نہیں بلکہ عوام کے حقوق اور جمہوری نظام کی مضبوطی ان کا اصل مقصد ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیر خزانہ کی سعودی وزیر سرمایہ کاری سے ملاقات، اقتصادی تعاون پر گفتگو وزیر خزانہ کی سعودی وزیر سرمایہ کاری سے ملاقات، اقتصادی تعاون پر گفتگو پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ بھی بسنت کی خوشیوں میں شریک، پتنگ اڑائی فافن کا پارلیمانی کمیٹیوں کو بااختیار بنانے کیلئے قانون سازی کا مطالبہ عباس عراقچی کی قطری وزیر اعظم سے ملاقات، کشیدگی میں کمی پر تبادلہ خیال راولپنڈی میں سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر دفعہ 144نافذ ملک احتجاجی سیاست کا متحمل نہیں ہوسکتا،پورے ملک نے پی ٹی آئی کی پہیہ جام ہڑتال کی کال مسترد کردی، مراد علی شاہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان نے جعلی مینڈیٹ کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم