مولانا منظور احمد ملک کا ایران کی تازہ ترین صورتحال پر تفصیلی انٹرویو
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
اسلام ٹائمز کیساتھ اپنے خصوصی انٹرویو میں جموں و کشمیر مطہری فکری و ثقافتی مرکز کے بانی رہنما کا کہنا تھا کہ امریکہ نے ایران کو وینزویلا جیسی کمزور ریاست بنانے کی کوشش کی مگر ایران کا نظریاتی و علاقائی ڈھانچہ اس میں رکاوٹ بنا، ایرانی قیادت بالخصوص رہبر معظم کی طویل المدتی حکمتِ عملی نے امریکہ کو عسکری نہیں بلکہ سیاسی و نفسیاتی محاذ پر بار بار ناکام کیا۔ متعلقہ فائیلیںمولانا منظور احمد ملک کا تعلق وادی کشمیر کے ضلع بارہمولہ سے ہے۔ آپ جموں و کشمیر مطہری فکری و ثقافتی مرکز کے بانی رہنما ہیں اور سرینگر میں امام جمعہ کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے مولانا منظور احمد ملک سے ایک خصوصی نشست کے دوران ایران کی موجودہ صورتحال اور میڈیا کے ایران کے حولے سے منفی پروپیگنڈہ کے حوالے سے ایک انٹرویو کا اہتمام کیا، جس میں انہوں نے کہا کہ ایران نے امریکہ و اسرائیل کی تمام تر سازشوں اور مکاریوں کا شاندار طریقے سے مقابلہ کیا۔ مولانا منظور احمد ملک نے کہا کہ طویل پابندیوں کے باوجود استقامت ایرانی معاشرے کے سیاسی و سماجی شعور اور بحرانوں سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ایران کو وینزویلا جیسی کمزور ریاست بنانے کی کوشش کی مگر ایران کا نظریاتی و علاقائی ڈھانچہ اس میں رکاوٹ بنا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قیادت بالخصوص رہبر معظم کی طویل المدتی حکمتِ عملی نے امریکہ کو عسکری نہیں بلکہ سیاسی و نفسیاتی محاذ پر بار بار ناکام کیا۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کہ آج میڈیا حق اور حقیقت لوگوں تک پہنچانے کے بجائے منفی پروپیگنڈہ پھیلانے کا مرکز بن گیا ہے۔ خصوصی انٹرویو پیش خدمت ہے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.
youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ منظور احمد ملک
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔