WE News:
2026-07-24@01:08:57 GMT

بلوچستان کے بحران کو سمجھے بغیر حل ممکن نہیں، رانا ثنا اللہ

اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT

بلوچستان کے بحران کو سمجھے بغیر حل ممکن نہیں، رانا ثنا اللہ

 

وزیراعظم کے مشیر سینیٹر رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں جاری مسائل کو سمجھے بغیر ان کا حل تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ماضی کی غلطیوں کو بدلا نہیں جا سکتا، تاہم مستقبل کے لیے درست سمت کا تعین کرنا ناگزیر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سندھ سے آئے مزدوروں کا بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے ہاتھوں قتل، تقسیم کی بھیانک کوشش

لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بلوچستان میں اس وقت دو الگ الگ بحران موجود ہیں، مگر ہم غلطی یہ کر رہے ہیں کہ دونوں کو ایک ہی طریقے سے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق جب تک یہ واضح نہیں ہوگا کہ اصل بحران کیا ہے، تب تک مسئلے کی جڑ تک پہنچنا ممکن نہیں۔

Rana Sanaullah, Pakistan's former Interior Minister, now an advisor to the PM, just spoke at the Asma Jahangir conference.

He suggested that Balochistan Liberation Army supporters have sacrificed their human rights so can be forcibly disappeared. Much of the crowd walked out. pic.twitter.com/4QwIq3mqd6

— Kenneth Roth (@KenRoth) February 8, 2026

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بے گناہ بچوں اور خاندانوں کو شناختی کارڈ دیکھ کر گولیاں ماری جاتی ہیں، لیکن کیا کبھی کسی نے یہ کہا کہ یہ کارروائیاں بلوچستان کے عوام کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہم واضح طور پر کہتے ہیں کہ یہ دہشت گرد ہیں جو پاکستان میں امن نہیں چاہتے اور ان کا کسی قوم یا صوبے سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ فیصل آباد میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے افراد اربوں روپے کا کاروبار کر رہے ہیں، مگر کوئی ایک مثال بھی نہیں دی جا سکتی کہ پنجاب میں کسی بلوچ کو نفرت یا تعصب کا نشانہ بنایا گیا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ حقیقت اس تاثر کو رد کرتی ہے کہ ملک میں نسلی بنیادوں پر نفرت پائی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:جبری گمشدگیوں پر انکوائری کمیشن کی ستمبر 2025 کی رپورٹ جاری

رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ بے گناہ افراد کو شہید کرنے والوں کا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جعفر ایکسپریس کے واقعے کے روز کیا بھارتی میڈیا پر جشن کا ماحول نہیں تھا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان میں بدامنی سے کون فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔

آخر میں انہوں نے زور دیا کہ ملک میں پائیدار امن کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، جبکہ بلوچستان کا امن اور ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بلوچستان رانا ثنا اللہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلوچستان رانا ثنا اللہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس

پڑھیں:

بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ

بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں اور ایک جج کے قتل کے تناظر میں کالعدم بی ایل اے اور داعش کے پی کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔

عوام کی جانب سے بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شہریوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بی ایل اے ملوث رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور

اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔

عوامی انفراسٹرکچر پر حملوں سے شہری متاثر

واضح رہے کہ عوامی انفراسٹرکچر، خصوصاً پلوں اور سڑکوں کو نشانہ بنانے سے آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں، ہنگامی امدادی خدمات اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

اس کا سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جنہیں بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جج کے قتل کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیا

عوامی حلقوں میں بلوچستان میں مستونگ کے علاقے میں جج کے قتل کو عدلیہ اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے جو کہ کالعدم بی ایل اے نے کیا جبکہ اس کی ذمہ داری داعش کے پی نے قبول کی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سینیئر صحافی اس صورتحال کو دونوں تنظیموں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ

واضح رہے کہ کالعدم داعش کے پی پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے، جبکہ کالعدم بی ایل اے اب تک اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔

مزید پڑھیں:ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب

اسی بنیاد پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر اسے فوری دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔

ادھر خیبر پختونخوا سے سینیئر صحافی حسن خان نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’بلوچستان کے ضلع مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کے قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم آئی ایس کے پی (داعش خراسان) نے قبول کر لی ہے۔

ISKP has claimed responsibility for the targeted killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar and his gunman while they were on their way to Mastung early on Thursday. Another judge was injured in the attack, according to officials.
This ISKP claim raises questions about a…

— Hassan khan (@hasankhyber) July 23, 2026

حملے میں ایک اور جج بھی زخمی ہوئے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ جمعرات کی صبح مستونگ جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں جج اور ان کا گن مین جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک اور جج زخمی ہوئے۔

آئی ایس کے پی کے دعوے کے بعد نئے سوالات

حملے کے چند گھنٹوں بعد آئی ایس کے پی نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کے درمیان مبینہ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب

کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا طریقۂ کار ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے بعض حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے میں کسی دوسری تنظیم کا کردار تھا یا دونوں گروہوں کے درمیان عملی تعاون موجود ہے۔

عدلیہ کو نشانہ بنانے کے محرکات کی تحقیقات جاری

بعض مبصرین کے مطابق یہ حملہ عدلیہ کو خوفزدہ کرنے یا دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کے خلاف عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔

تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔

ایک روز قبل مسافر بس پر حملہ

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل بلوچستان میں مسافر بس پر حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری حکام نے اس حملے کا الزام بی ایل اے پر عائد کیا تھا۔

حکام کے مطابق مسلح افراد نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کے گاڑی بھگانے پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 5 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ بی ایل اے پابندی خراسان داعش فہرست کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی ماہ رنگ لانگو مطالبہ

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا