افغانستان میں سرگرم 20 سے زیادہ دہشت گرد تنظیمیں دنیا کیلئے خطرہ ہیں: بلال اظہر کیانی
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ 20 سے زیادہ دہشت گرد تنظیمیں افغانستان سے کام کر رہی ہیں اور یہ تنظیمیں صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے لیے بھی خطرہ ہیں۔
روزنامہ جنگ کے مطابق لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر ریاست کو حق ہے کہ اپنے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے، پاکستان اب سخت اقدامات کر رہا ہے اور مستقبل میں بھی نتیجہ خیز بات چیت کے لیے تیار ہے، افغانستان کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مثبت اور دیرپا اقدامات کرنا ہوں گے۔
بھارت: جھولا گرنے سے متعدد افراد زخمی، ویڈیو وائرل
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ انسانی بنیادوں پر دی جانے والی امداد طالبان رجیم کی مضبوطی پر خرچ ہو رہی ہے، ہم پاکستان میں امن چاہتے ہیں، مختلف آپریشنز میں مارے جانے والے متعدد افغانی دہشت گرد تھے، ٹی ٹی پی کو محفوظ ٹھکانے افغانستان سے فراہم کیے جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے چار دہائیوں تک افغانیوں کے لیے اپنے دروازے کھولے رکھے اور کھلے دل سے افغان بہن بھائیوں کی مدد کی، تاہم اب ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں کہ ان حالات میں مدد جاری رکھیں۔
وزیر مملکت خزانہ نے کہا کہ افغان شہریوں کو مرحلہ وار واپس بھیجا جا رہا ہے اور کوئی ملک بھی بغیر دستاویزات یا رجسٹریشن کے دوسرے ملک کے شہریوں کو نہیں رکھ سکتا۔
پاکستانی شوبز انڈسٹری کے نامور ستارے بھی بسنت کے رنگ میں رنگ گئے
انہوں نے کہا کہ پاکستان انسانی بنیادوں پر مدد کے لیے تیار ہے لیکن افغان حکومت کو دہشت گردی روکنے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
قابض افغان طالبان رجیم کیخلاف افغانستان کے مختلف صوبوں میں آزادی پسند تحریکیں زور پکڑ گئیں.
بدخشان میں چندماہ میں دوسرےضلعی گورنرکی ہٹ دھرمی پرمبنی برطرفی نےطالبان کےاندرونی خلفشارکوآشکارکردیا۔
افغان میڈیا کے مطابق طالبان رجیم کیخلاف نئے مسلح گروہ سپاہیان میہن نے بدخشان کے ضلع یفتلی سفلی پرقبضہ کرکےاپنی موجودگی کا باضابطہ اعلان کر دیا
یہ گروہ مختلف طبقات سے تعلق رکھنےوالےافراد پرمشتمل ہے جن میں سابق سیکیورٹی اہلکاراورمقامی باشندےشامل ہیں۔
ساؤتھ ایشیا ٹیررزم پورٹل کی رپورٹ کے مطابق طالبان اور جمعہ خان فاتح کے درمیان اختلافات ختم نہیں ہوئے،بدخشان میں ان کےحامیوں اورطالبان قیادت کےدرمیان کشیدگی برقرارہے۔
بدخشان میں اندرونی کشیدگی بھی عروج پر،ضلعی گورنرقاری مطیع الرحمان کوتقرری کےایک ہفتےبعدہی عہدے سےہٹا دیا گیا، طالبان مخالف گروہوں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ اورافغانستان فریڈم فرنٹ بھی بدخشاں سمیت افغانستان کے کئی صوبوں میں سرگرم ہیں۔
افغان مزاحمتی تنظیم نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نےایکس اکاونٹ پرمزاحمتی فورسزکی نئی ویڈیواپ لوڈکردی۔ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کےایکس پراپ لوڈ ویڈیومیں طالبان مخالف فورسزکواہم علاقےمیں گشت کرتےہوئےدیکھاجاسکتا ہے۔