ایم کیو ایم کی سیاست سے کراچی اور ایم کیو ایم کو نقصان ہوا، نسرین جلیل
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
کراچی لٹریچر فیسٹول میں اپنی زندگی کے ادوار پر گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم رہنما کا کہنا تھا کہ جب ایم کیو ایم پر برا وقت آیا میرے بچے بھی لپیٹ میں آئے، جب مشرف آئے تو ایم کیو ایم نے ملنے کا کہا، مشرف نے کہا کہ دہشت گرد پارٹی ہے میں نہیں ملوں گا، مشرف نے اپنے آپ کو مستحکم کرنے کیلئے ایم کیو ایم سے ملاقات کی۔ اسلام ٹائمز۔ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کی رہنما نسرین جلیل کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کی سیاست سے کراچی اور ایم کیو ایم کو نقصان ہوا، ایم کیو ایم میں 30 سال ضائع کیے۔ کراچی لٹریچر فیسٹول میں اپنی زندگی کے ادوار پر گفتگو کرتے ہوئے نسرین جلیل کا کہنا تھا کہ جب ایم کیو ایم پر برا وقت آیا میرے بچے بھی لپیٹ میں آئے۔ نسرین جلیل نے کہا کہ جب مشرف آئے تو ایم کیو ایم نے ملنے کا کہا، مشرف نے کہا کہ دہشت گرد پارٹی ہے میں نہیں ملوں گا، مشرف نے اپنے آپ کو مستحکم کرنے کیلئے ایم کیو ایم سے ملاقات کی۔
نسرین جلیل نے کراچی کی اکثریت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مہاجروں کو شناخت ایم کیو ایم نے دی۔ رہنما ایم کیو ایم نسرین جلیل نے 8 فروری 2024ء کے انتخابات کے نتائج سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ 2018ء میں بانی پی ٹی آئی کو جتوانا تھا، انہیں ہماری سیٹس دی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ 2002ء کے انتخابات میں ڈیفنس کی میری سیٹ پر جماعت اسلامی کے امیدوار کو جتوایا گیا تھا، کیونکہ اس وقت متحدہ مجلس عمل کو جتوایا گیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایم کیو ایم نسرین جلیل نے کہا کہ ایم کی
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔