امریکا کا ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے دوران بحیرہ عرب میں فوجی طاقت کا مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
واشنگٹن: امریکا نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے دوران بحیرہ عرب میں اپنے فوجی بیڑے کو متحرک کر کے طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق طیارہ بردار جہاز ’’یو ایس ایس ابراہم لنکن‘‘، دو فوجی سپلائی بحری جہازوں اور امریکی کوسٹ گارڈ کے دو جہازوں کے ہمراہ اس آپریشن میں شریک رہے، جبکہ امریکی فضائیہ کے طیاروں نے بھی پروازیں کیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ سینٹکوم نےسوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ بحیرہ عرب میں اس مشترکہ بحری سفر کو ’’آپریشنل تیاریوں کا مظاہرہ‘‘ قرار دیتے ہوئے اسے طاقت کے ذریعے امن کے طور پر پیش کیا گیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ تہران بھی اب سنجیدگی سے معاہدہ چاہتا ہے اور ایران کو کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ٹرمپ نے پہلے ہی اشارہ دیا تھا کہ ایک بڑا بحری بیڑا مشرق وسطیٰ کی جانب بڑھ رہا ہے اور اب سینٹکوم نے اس بیڑے کے سفر کی تصاویر جاری کر دی ہیں۔امریکی میڈیا کے مطابق امریکی مندوبین اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے مسقط میں ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
اسحاق ڈار---فائل فوٹونائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔