کوئٹہ:

تحریک تحفظ آئین پاکستان کی  جانب سے کوئٹہ سمیت  بلوچستان میں بھی شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی گئی، اس دوران کاروباری مراکز بند رہے، سڑکیں ویران تھیں جبکہ پولیس نے درجنوں سیاسی کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔

ایکسپریس کے مطابق تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے کوئٹہ، مستونگ، قلات، پشین، قلعہ سیف اللہ، لورالائی، ژوب، ہرنائی، سبی، سمیت صوبے تمام اضلاع  شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی گئی، کوئٹہ سمیت تمام کاروباری وتجارتی مراکز، دکانیں، شاہراہیں بند ، سڑکوں پر ٹریفک معمول سے کم رہا جبکہ صوبے میں تھری جی اور فور جی انٹرنیٹ سروس معطل رہی۔

پولیس نے سڑکیں بلاک کرنے اور دکانوں کو زبردستی  کرنے والے درجنوں سیاسی کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔

کوئٹہ میں مرکزی بازار، بڑی مارکیٹیں، ہوٹلز اور دکانیں مکمل طور پر بند رہیں، جبکہ شہر کے نواحی علاقوں میں جزوی ہڑتال دیکھی گئی۔ قومی شاہراہوں سمیت شہری سڑکوں پر ٹریفک معمول سے بہت کم رہی، اور کئی مقامات پر ٹریفک تقریباً جام رہا۔

مرکزی انجمن تاجران بلوچستان، ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشنز اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے بھی ہڑتال کی مکمل حمایت کا اعلان کیا تھا جس کی وجہ سے تاجران نے اپنے کاروبار بند رکھے اور عوام نے بھرپور تعاون کیا۔

حکومت کی جانب سے دفعہ 144 کے نفاذ کے باعث امن وامان یقینی بنانے کے لیے پولیس، لیویز اور دیگر سیکیورٹی فورسز کے اہلکار شہر کے اہم چوراہوں، بازاروں اور شاہراہوں پر تعینات رہے۔

ضلعی انتظامیہ نے زبردستی ہڑتال کرانے یا سڑکیں بلاک کرنے کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی دھمکی دی تھی جس کے نتیجے میں تقریباً 70 مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا  تاہم ہڑتال کے باعث بلوچستان سے سندھ، خیبر پختونخوا اور پنجاب جانے والی قومی شاہراہیں بھی متاثر رہیں اور ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔

یہ ہڑتال اپوزیشن اتحاد کی جانب سے آئین کی بالادستی، جمہوری اقدار کی حفاظت اور مبینہ انتخابی چوری کے خلاف ایک طاقتور پیغام تھا۔

بلوچستان کے شہریوں نے ثابت کیا کہ جب آئینی حقوق کی بات آتی ہے تو کوئی رکاوٹ، دھمکی یا سیکیورٹی اقدامات عوام کے عزم کو متزلزل نہیں کرسکتے۔ تاجر برادری کی حمایت اور عوامی شرکت نے ہڑتال کو نمایاں کامیابی بخشی، جو ملک بھر میں جاری احتجاج کی لہر کا اہم حصہ بن گئی۔

عوام کا یہ اتحاد حکومت کے لیے واضح انتباہ ہے کہ آئین اور مینڈیٹ کی حفاظت کے بغیر استحکام ممکن نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے

سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔  اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ 

کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔ 

سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔ 

او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے