بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کی جانب سے انتخابات سے متعلق ہلاکتوں کی رپورٹ بےبنیاد قرار
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
بنگلہ دیش کی حکومت نے حال ہی میں شائع ہونے والی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل بنگلہ دیش کی رپورٹ پر اعتراض کیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انتخابات کے شیڈول کے اعلان کے بعد 36 دنوں میں 15 سیاسی رہنما اور کارکنان قتل ہوئے۔ حکومت نے اس اعداد و شمار کو گمراہ کن اور سیاق و سباق سے خالی قرار دیا۔
حکام کے مطابق پولیس ریکارڈز کے مطابق اس دوران صرف 5 ہلاکتیں براہِ راست کسی سیاسی سرگرمی یا پروفائل سے جڑی ہوئی ہیں۔ ان میں عثمان ہادی کا قتل بھی شامل ہے، جنہیں موٹرسائیکل سوار افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کیا۔ حکام کے مطابق یہ قتل جان بوجھ کر ایک حساس سیاسی مرحلے کے دوران خوف پھیلانے کے لیے کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش الیکشن کمیشن کا غیر معروف این جی او کو دیے گئے مبصر کارڈز معطل کرنے کا فیصلہ
حکومت نے زندگی کے ضیاع کی ہر قسم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ نے اعداد و شمار کو بنگلہ دیش میں سابقہ انتخابات سے متعلق تشدد کی تاریخ میں نہیں رکھا۔ موازنہ کے لیے، 2024 کے انتخابات میں 6 افراد، 2018 کی رات کے انتخابات میں 22 اور 2014 کے متنازع انتخابات میں کم از کم 115 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
حکام نے کہا کہ رپورٹ کے اعداد و شمار اور سرکاری ڈیٹا میں فرق درجہ بندی کے طریقہ کار میں اختلاف کی وجہ سے ہے، نہ کہ معلومات چھپانے کی کوشش کی وجہ سے۔ حکومت کے مطابق رپورٹ نے سیاسی جماعتوں سے وابستہ تمام افراد کی ہلاکتوں کو انتخابات سے متعلق شمار کیا، جبکہ حکام صرف ان ہلاکتوں کو شامل کرتے ہیں جن کا براہِ راست اور تصدیق شدہ تعلق انتخابی سرگرمی سے ہو۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش کے لیے آئندہ ہفتہ اہم، شفاف اور پرامن ووٹنگ یقینی بنانا چیلنج ہوگا، چیف ایڈوائزر محمد یونس
حکام نے تسلیم کیا کہ عوامی تحفظ کے مسائل موجود ہیں، لیکن عبوری غیر جانبدار حکومت نے مبینہ زیادتیوں میں ملوث افسران کو ہٹایا یا معطل کیا، خصوصی سیکیورٹی یونٹس کا جائزہ لیا، جبری گمشدگی اور تشدد کے مقدمات میں قانونی کارروائی شروع کی، اور عوامی اجتماعات اور انتخابات کے دوران پولیسنگ کے لیے واضح ہدایات جاری کیں۔
مزید برآں، حکومت نے حساس تقریبات، بڑے جنازے اور سینیئر اپوزیشن رہنماؤں کی واپسی کو پرامن طریقے سے سنبھالنے کو سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ مہارت اور ضبط کا ثبوت قرار دیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات پچھلے انتخابات سے مختلف ہیں، اور سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور بین الاقوامی نگرانوں کے تعاون سے زیادہ پرامن انتخابی عمل ممکن ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انتخابات بنگلہ دیش ڈھاکا رپورٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انتخابات بنگلہ دیش ڈھاکا رپورٹ انتخابات سے بنگلہ دیش حکومت نے کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔