انتہا پسندی کا مرکز افغانستان عالمی امن کیلئے سنگین چیلنج، عالمی محققین کا واضح مؤقف
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
عالمی حلقوں نے متفقہ طور پر طالبان حکومت کو ناقابلِ اعتماد اور خطے کی سلامتی کیلئے بڑا چیلنج قرار دیا ہے۔
افغان جریدہ افغان انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ طالبان حکومت غیر مستحکم اور وقتی اقتدار پر قائم ہے ۔
سینئر روسی تجزیہ کار کے مطابق طالبان کی پالیسیاں غیر پائیدار حکمرانی اور عوامی بے چینی کو ظاہر کرتی ہیں اور سینٹر فار کنٹیمپریری ایرانی اسٹڈیز کے ڈائریکٹر رجب سفاروف نے کہا کہ طالبان کا خراب سیاسی طرزِ عمل زیادہ عرصہ اقتدار برقرار نہیں رکھ سکے گا۔طالبان ایسے ماحول میں پروان چڑھے ہیں جہاں انتہا پسند اقدامات کو فروغ دیا جاتا ہے۔
روسی محقق آندرے سرینکو کے مطابق طالبان بنیادی طور پر تبدیل نہیں ہوئے بلکہ پہلے سے زیادہ ناقابلِ اعتماد ہو گئے ہیں۔
عالمی تجزیہ کاروں نے بھی اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ طالبان حکومت پورے خطے میں عدم استحکام اور دہشت گردی کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتی ہے۔
انتہا پسندی اور سخت پالیسیوں نے افغان طالبان حکومت کے خاتمے کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: طالبان حکومت
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔