8فروری2024ء کے انتخابات مکمل طور پرجعلی تھے‘ف لیگ
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(جسارت نیوز)پاکستان مسلم لیگ فنکشنل سندھ کے سیکریٹری جنرل اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے سیکریٹری اطلاعات سردار عبدالرحیم نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ سندھ بھر میں 8 فروری 2024ء کو ہونے والے عام انتخابات مکمل طور پر بوگس، جعلی اور بدترین دھاندلی کا مظہر تھے۔ انتخابات کے نتائج فارم 47 کے ذریعے تبدیل کر کے من پسند امیدواروں کو کامیاب قرار دیا گیا، جسے ہم کسی بھی صورت قبول نہیں کرتے۔سردار عبدالرحیم نے کہا کہ ان جعلی انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آنے والی اسمبلیاں عوام کی نمائندہ نہیں ہیں، بلکہ عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈال کر بنائی گئی ہیں۔ ایسی اسمبلیوں سے عوامی مسائل کے حل کے بجائے صرف عوام دشمن فیصلے سامنے آ رہے ہیں، اسی لیے جی ڈی اے اور مسلم لیگ فنکشنل نے ان اسمبلیوں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔انہوں نے اعلان کیا کہ پیر صاحب کی صدارت میں جی ڈی اے کی کور کمیٹی نے 8 فروری کو سندھ بھر میں یومِ سیاہ منانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس سلسلے میں جی ڈی اے میں شریک جماعتیں تمام ضلعی پریس کلبوں کے سامنے پرامن احتجاجی مظاہرے کیے کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جی ڈی اے
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔