Express News:
2026-07-23@23:26:36 GMT

دھمکیوں سے منت سماجت تک

اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT

بنگلہ دیش کو ایونٹ سے باہر کرنے پر جب پی سی بی کے سخت ردعمل کی باتیں شروع ہوئیں تو انڈین میڈیا پر سابق کرکٹرز و ماہرین کچھ اس قسم کے دعوے کر رہے تھے، انھیں لگتا تھا کہ یہ صرف دھمکی ہے پاکستان ایسا کچھ نہیں کر سکتا۔ 

البتہ جب حکومت پاکستان کی جانب سے کرکٹ ٹیم کو ورلڈکپ میں انڈیا کیخلاف مقابلے سے روک دیا گیا تو یہ سب پریشان ہو گئے، پھر یہ کہا جانے لگا کہ جس طرح پاکستانی کرکٹرز ریٹائر ہو کر کئی بار فیصلہ تبدیل کر لیتے ہیں ویسے ہی بورڈ بھی کر لے گا۔

پھر جب وزیر اعظم شہباز شریف نے کابینہ کے سامنے انڈیا سے میچ کے بائیکاٹ کی بات کر دی تو پڑوسیوں کو معاملے کی سنگینی کا اندازہ ہوا، پہلے جرمانے، پابندیوں سے ڈرایا جاتا رہا اب بات منت سماجت تک پہنچ چکی۔ 

حد تو یہ ہے کہ سری لنکن بورڈ سے بھی خط لکھوا دیا گیا کہ ’’ بھائی جان ہم نے مشکل وقت میں تمہاری بہت مدد کی اب آپ نے میچ نہ کھیلا تو ہمارا بہت نقصان ہو جائے گا‘‘ طویل عرصے بعد کوئی پہلا موقع ایسا ہے جب آئی سی سی اور انڈین بورڈ سخت پریشان ہیں۔

میچ نہ ہونے پر عام اندازے کے مطابق ڈھائی سو ملین ڈالرز کا نقصان متوقع ہے، پاکستانی کرنسی میں یہ رقم اربوں میں جاتی ہے، اصل خسارہ اس سے کئی زیادہ ہونا ہے، سٹے باز بھی اربوں کماتے ہیں.

انڈین براڈ کاسٹر آئی سی سی کے پیچھے پڑا ہوا ہے کہ مسئلہ حل کرو ورنہ ہم سے پیسوں کی امید نہ رکھنا،تم کو کورٹ میں دیکھ لیں گے، صرف ایک اس میچ سے اتنی آمدنی ہو جاتی ہے جو پورے ورلڈکپ کے دیگر میچز کے برابر ہے.

اسی لیے ہمیشہ دشمنی کا راگ الاپنے والا انڈیا ہر میگا ایونٹ میں پاکستان کے خلاف کھیلنے کو تیار ہو جاتا ہے، براڈ کاسٹر نے بھاری رقم دے کر حقوق اسی لیے حاصل کیے ہوتے ہیں کہ اسے روایتی حریفوں کے میچ کا یقین دلایا جاتا ہے. 

اس قسم کی ڈیلز انڈیا میں اعلیٰ شخصیات کی جیب بھاری کیے بغیر ممکن نہیں ہو سکتیں اسی لیے سیاست دان بھی ’’دیش بھگتی‘‘ کی باتیں کرنا چھوڑ دیتے ہیں، انڈیا آئی سی سی کی آمدنی کا بڑا حصہ تقریبا 40 فیصد خود لے جاتا ہے،پاکستان کو اس سے بہت کم 5 یا 6 فیصد شیئر ہی ملتا ہے. 

کیا انڈیا اتوار کو یوگینڈا سے میچ کھیلتا تب بھی اتنی آمدنی ہوتی؟ جب پاکستان کے نام پر کما رہے ہو تو اسے جائز حصہ بھی تو دو، بنگلہ دیش غریب ملک ہے کرکٹ میں اس کی اہمیت بھی نہیں اس لیے آسانی سے ورلڈکپ سے باہر کر دیا گیا. 

پی سی بی نے حمایت کر کے بالکل درست قدم اٹھایا لیکن انگلینڈ، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا جیسے ممالک خاموش تماشائی بنے رہے ویسے ان سے اصول پسندی کی باتیں کروا لیں تو سب سے آگے ہوں گے. 

اب معاملہ بہت آگے نکل گیا ہے، پاکستان کو پابندیوں یا جرمانوں سے نہیں ڈرایا جا سکتا، بائیکاٹ جیسا بڑا فیصلہ یقینی طور پر تمام قانونی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد وکلا کی مشاورت سے ہی کیا گیا ہو گا، جب ماضی میں بھارت معاہدے سے پھر سکتا ہے تو پاکستان کے پاس تو ٹھوس جواز بھی ہے. 

کسی ٹیم کو حکومت ہی کھیلنے سے روک دے تو وہ کیسے کھیل سکتی ہے؟ شاید اس ایک فیصلے سے لوگوں کی آنکھیں کھل جائیں، جیب خالی ہو گی تو آئی سی سی کو بھی حقائق کا اندازہ ہو سکے گا، طویل عرصے سے انڈیا پاکستان کے ساتھ باہمی سیریز نہیں کھیل رہا سب خاموش رہے اب پاکستان نے ایک میچ کھیلنے سے انکار کر دیا تو لوگ چیخیں مارنے لگے. 

کہا جاتا ہے کہ کرکٹ میں زیادہ تر آمدنی انڈیا کی وجہ سے آتی ہے، بہت بڑی آبادی کی وجہ سے شاید کسی حد تک ایسا ممکن ہو لیکن کیا تمام اسپانسرز انڈینز ہی ہیں؟ اس ورلڈکپ کو ہی دیکھ لیں کئی بڑے اسپانسرز سعودی عرب، یو اے ای و دیگر ممالک کے بھی ہیں. 

ماضی میں کیا ورلڈکپ نہیں ہوتے تھے؟ اس وقت کیسے گوروں کو اسپانسرز مل جاتے تھے؟ کیا اب یہ ممالک دیوالیہ ہو چکے ہیں؟ درحقیقت انڈیا سے جب پیسہ آنے لگا تو سب سہل پسند ہو گئے اور اپنی مارکیٹ کو چھوڑ دیا، اب نوبت یہ آ گئی کہ بگ بیش میں سرمایہ کاری کی خواہشمند ایک کمپنی نے پیشکش یہ کہہ کر واپس لے لی کہ ’’ہماری توہین کی گئی. 

کرکٹ آسٹریلیا صرف آئی پی ایل والوں کو لانا چاہتا ہے‘‘ انگلینڈ کی دی ہنڈرڈ ہو یا جنوبی افریقی ایس اے 20 سب پر انڈینز کا راج ہے، ایک دن آئے گا جب کنٹرول کھو کر یہ اپنے فیصلوں پر پچھتائیں گے،پاکستان حق و سچ کی راہ پر کھڑا ہے. 

بائیکاٹ سے یقینی طور پر ہمیں مالی نقصان ہو گا لیکن ایک بار ان کو سبق سکھانا ضروری بھی ہے، پی ایس ایل کی وجہ سے اب بورڈ کے پاس پیسہ آ چکا،معاملہ کورٹ تک گیا تو بھی پوزیشن مضبوط ہو گی، ویسے منافقت کی بھی انتہا ہے یہ انڈینز میچ میں ہاتھ نہیں ملاتے، سابق کرکٹرز لیجنڈ لیگ کا میچ نہیں کھیلتے اور اب ہم سے کہہ رہے ہیں کہ کیوں نہیں کھیل رہے؟

سب سے بڑا لطیفہ تو انڈیا کا کھیل میں سیاست کو نہ لانے کا کہنا ہے، یہ لوگ تو کہہ رہے تھے کہ صرف سلیکٹڈ میچز کھیلنے نہیں دیں گے لیکن پاکستان تو فیصلے پر قائم ہے اور ورلڈکپ کا پہلا میچ بھی کھیل لیا، بات یہی ہے کہ جب آپ حق پر ہوں تو ڈرنا نہیں چاہیے دوسرے آپ سے ڈرتے ہیں. 

انڈینز تو کہتے تھے کہ پاکستان کچھ نہیں کرے گا،آپ کو جب کوئی فرق نہیں پڑتا تو کیوں ٹی وی چینلز اورسوشل میڈیا پر شور مچایا ہوا ہے، اب کیا ہو گیا؟

آئی سی سی اب بیک ڈور چینلز سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اسے اعتماد کی بحالی کیلیے سب سے پہلے اعلان کرنا چاہیے کہ بنگلہ دیش کو ٹورنامنٹ میں عدم شرکت کے باوجود ورلڈکپ کی آمدنی کا پورا شیئر دیا جائے گا. 

پلیئرز کو بھی زرتلافی دیں کیونکہ انھوں نے تو صرف اپنی حکومت کا حکم مانا ہے،پاکستان کا شیئر بھی بڑھائیں، پی سی بی کو اب سوچ سمجھ کر آگے قدم اٹھانے چاہیئں، انڈیا پر بھروسہ نہ کریں 15 فروری کے بعد ان کی ٹون پھر بدل جائے گی. 

وعدے تو سابق چیئرمین نجم سیٹھی کے ساتھ بھی کیے کیے گئے تھے مگر بگ تھری پر ووٹ لینے کے بعد سب بھلا دیے گئے، اب بھی ایسا کچھ کہا گیا تو اسے سچ نہ مان لے گا،آج اگر ہم اکیلے ہیں تو کوئی غم نہیں کل جب انگلینڈ، آسٹریلیا و دیگر بورڈز کو بھی انڈیا آنکھیں دکھائے گا تب ان کو حقیقت کا احساس ہو گا، شاید تب ہی کرکٹ کا ورلڈ آرڈر تبدیل ہو تب تک اپنی لڑائی اکیلے ہی لڑنا ہوگی۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان کے جاتا ہے

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف