بسنت کا اختتام امن کی شمعوں کے نام، لاہوریوں نے ذمہ داری کا عملی ثبوت دے دیا، عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
لاہور:
بسنت کے تیسرے اور آخری روز شہر کی فضاؤں میں امن اور امید کی شمعیں روشن کی گئیں، جنہوں نے آسمان کو خوبصورت مناظر سے سجا دیا۔
اختتامی تقریب میں شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور امن، یکجہتی اور خوشیوں کے پیغام کو عام کیا۔
صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری نے اس موقع پر کہا کہ امید کی یہ شمعیں آئندہ برس بسنت کی مزید خوشیاں لے کر آئیں گی۔
انہوں نے کہا کہ لاہوریوں نے ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد کر کے ثابت کیا کہ وہ اپنے تہوار اور ثقافتی ورثے کا تحفظ خود بھی کر سکتے ہیں۔
مزید پڑھیںمریم نواز کا لاہور کے بعد دوسرے شہروں میں بھی ’سیف بسنت‘ کا تصور اپنانے کا اعلان
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف لاہور اور پورے پنجاب کی خوشیوں کی محافظ ہیں، جن کی ہدایات پر بسنت کے انتظامات کو مؤثر اور محفوظ بنایا گیا۔
انہوں نے شہریوں، انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بسنت کا یہ پرامن انعقاد آئندہ برسوں کے لیے ایک مثبت مثال ہے۔
شہرِ لاہور کی فضا میں روشن ہونے والی امن کی شمعوں نے محبت، بھائی چارے اور امید کا پیغام عام کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔