کسی بھی غلبہ پسند طاقت کے سامنے سر نہیں جھکا سکتے‘امیر جماعت اسلامی بنگلا دیش
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260209-01-16
ڈھاکا (صباح نیوز) امیر جماعت اسلامی بنگلا دیش شفیق الرحمٰن نے کہا ہے کہ ملک کی عزت، ملک کے خوابوں سے کوئی سمجھوتہ نہیں۔ کسی بھی غلبہ پسند طاقت کے سامنے ہم سر نہیں جھکا سکتے۔ میں پختہ طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ ان شاء اللہ ہم بنگلا دیش کو بین الاقوامی ایونٹس میں عزت کی نشست پر لے جائیں گے۔’’پوسٹ میں ڈاکٹر شفیق الرحمن نے لکھا:‘‘ٹی 20 ورلڈ کپ میں قدرتی طور پر ہماری نظریں ٹی وی سکرین پر ہوتیں، سب ٹائیگرز کے میدان میں لڑائی اور فتح کے جشن کا انتظار کرتے۔’’دکھ کا اظہار کرتے ہوئے جماعت کے امیر نے کہا کہ‘‘اس بین الاقوامی اسٹیج پر آج بنگلا دیش کی شرکت ہونی چاہیے تھی، لیکن ہمیں اس حق سے محروم کر دیا گیا ہے۔ ہمارے کرکٹرز کے ساتھ ساتھ قوم کی بھی توہین کی گئی ہے۔ لال-سبز کے نام پر جشن منانے کے لمحات سے ہمیں منظم طور پر دور رکھا گیا ہے۔’’کرکٹرز کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا:‘‘پیارے کرکٹر بھائیو، میں آپ کے ساتھ ہمدردی کے جذبات رکھتا ہوں۔ ملک کی عزت، ملک کے خوابوں سے کوئی سمجھوتہ نہیں۔ کسی بھی غلبہ پسند طاقت کے سامنے ہم سر نہیں جھکا سکتے۔ میں پختہ طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ ان شاء اللہ ہم بنگلا دیش کو بین الاقوامی ایونٹس میں عزت کی نشست پر لے جائیں گے۔’’بنگلا دیش سر اٹھا کر واپس آئے گا—فخر کے ساتھ، طاقت کے ساتھ، عزت کے ساتھ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بنگلا دیش طاقت کے کے ساتھ
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔